مریم نوازنے تعصب، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں امن، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے نفرت انگیز مواد، غلط معلومات اور انتہاپسندی کے رجحانات کی روک تھام میں کردار ادا کریں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ معاشرے سے نفرت، تعصب اور تنگ نظری کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، جبکہ ماہ محرم الحرام میں امن، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا خاص طور پر اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نفرت انگیز مواد کی تیزی سے ترسیل آج کے دور کا بڑا چیلنج ہے، جو معاشرتی تقسیم اور تشدد کو فروغ دیتا ہے۔
مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ نفرت انگیز بیانیہ انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہے، جبکہ مذہبی، نسلی اور صنفی بنیادوں پر نفرت کو ہر صورت روکنا عالمی ہم آہنگی کی بنیادی کنجی ہے۔انہوں نے اسلاموفوبیا کو نفرت انگیز رویوں کی خطرناک شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کا محاسبہ ناگزیر ہے، اور معاشرے میں برداشت، امن اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔