ایران :وسطی و شمالی اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی ایک بڑی لہر داغی، جس سے تل ابیب، حیفا، گَلِلی، وادی گولان اور دیگر علاقوں میں ایئر-ریڈ سائرنز بج اٹھے۔
اسرائیلی فوج نے شہریوں کو بم پناہ گاہوں میں جانے کی فوری ہدایت جاری کی ۔پہلی لہر تقریباً 15 میزائلوں پر مشتمل تھی، اس کے بعد قریباً 40 منٹ کے اندر مزید تقّریباً 10 میزائل فائر کیے گئے؛ دونوں صورتوں میں سائرنز بجنے اور شہریوں کو پناہ گاہوں تک پہنچنے کا وقت مل سکا ۔
دفاعی نظام اور اثرات
آئرن ڈوم اور دیگر اسرائیلی دفاعی نظام فعال تھے، جنہوں نے متعدد میزائل فضا میں ناکارہ بنا دیے، جبکہ کچھ گر کر زمین پر گرے یا جلی ہوئے ملبے کی صورت میں تباہی پھیلا دیے ۔کچھ سٹرکچرز اور گاڑیوں میں وقفے وقفے سے آتشزدگیاں رپورٹ ہوئیں، مگر ابتدائی اطلاعات کے مطابق بڑی سطح کا انسانی نقصان یا اموات نہیں ہوئیں ۔
حکام اور امدادی اداروں کی رپورٹیں
Magen David Adom کے مطابق ابتدائی طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پھر بھی، کچھ شہری اضطراری کیفیت کی بنا پر زخمی ہوئے جب وہ پناہ گاہوں کی جانب دوڑے ۔
اسرائیلی فوج نے معلومات متواتر اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا کہ "حملے حکمتِ عملی کے تحت کئے گئے، شہریوں کو پناہ گزین رہنے کی ہدایت کی گئی، اور چند لمحوں بعد 'All Clear' موصول ہوئی" ۔
ایران کی دعوے اور اس کی نوعیت
ایران کی پاسدارانِ انقلاب گارڈ (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ’فتح-1 (Fattah‑1) ہائپر سونک میزائل’ استعمال کیے، جن کے ذریعے انہوں نے “فضائی حدود پر مکمل کنٹرول” کا اشارہ دیا، حالانکہ اسرائیلی دفاعی نظام نے انہیں ناکارہ بنایا ۔IRGC نے اس حملے کو "Operation Promise True III" کا حصہ بتایا۔ پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے میوزیکل-ٹیفیکل، سائنسی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا؛ ان میں سے بعض سرکاری ذرائع نے خبردار کیا کہ ایک تجرباتی سائنس انسٹی ٹیوٹ اور ملٹری انٹیلی جنس مراکز متاثر ہوئے۔
ایران و اسرائیل کے درمیان تصادم کی عالمی نوعیت
یہ تازہ حملہ ایک ایسے شعلہ ور تنازعے کا حصہ ہے جو جون 13 کو شروع ہوا، جس میں اسرائیل نے ایران میں متعدد ٹھکانوں جیسے بیلسٹک میزائل لانچ سائٹس، نیوکلیئر تنصیبات اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، اور 24 سے زائد ایرانی اہلکار ہلاک ہوئے ۔ایران نے اس کے جواب میں متعدد میزائل داغے جن میں بیٹنکشمحد، Sejjil، Shahab ماڈل شامل تھے۔ اس کے بعد ایران کی جانب سے تازہ حملے کے بعد کہنا ہے کہ اس نے فضائی حدود پر برتری حاصل کرلی ہے ۔
خلاصہ
شہر میں حسبِ معمول سائرنز، دفاعی سسٹمز کی جوابی کارروائی اور سویلینوں کا پناہ گزین ہونا جاری؛ فی الحال اموات کا کوئی اطلاع نہیں، مگر زخمیوں کی چند تعداد ریکارڈ کی گئی۔ایران کا دعویٰ: انتہائی جدید میزائل استعمال، فضائی حدود میں تسلط، اور سائنسی و عسکری اہداف کا نشانہ بنانا۔اسرائیل کا مؤقف: دفاعی نظام نے طول و عرض میں مؤثر ردعمل دیا اور شہریوں کو محفوظ رکھا۔