ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اراکین میں شدید تلخ کلامی،ایک دوسرے کے خلاف سخت جملوں کااستعمال
تم لوگوں نے کراچی کو یتیم کیا ہوا ہے،جاوید حنیف، کراچی کیس کے باپ کی جاگیر نہیں،شازیہ مری
اسلام آباد (آئی این پی )پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے قومی اسمبلی اجلاس میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بتائیں حکومت شمسی توانائی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیوں کر رہی ہے؟۔شازیہ مری نے قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران کہا کہ نہروں کے معاملے میں آپ ہمارا ساتھ دیں، اگر آپ سندھ کے بیٹے ہیں تو نہروں کے معاملے پر ہمارا ساتھ دیں گے، آپ کراچی، حیدر آباد کو سندھ سے الگ نہیں کر سکتے ہیں، کراچی سندھ کا ہے اور رہے گا۔شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی سولر پر 18فیصد ٹیکس کی حمایت نہیں کرے گی، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ہے۔ اس موقع پر شازیہ مری کی تقریر کے دوران ایم کیو ایم اراکین نے احتجاج کیا، ایم کیو ایم کی آسیہ اسحاق شازیہ مری کی نشست کے قریب آ گئیں، دونوں ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ایوان میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اراکین میں شدید تلخ کلامی ہوئی۔ایم کیو ایم کی آسیہ اسحاق پیپلز پارٹی کے ارکان کی جانب بڑھنے لگیں تو آصفہ بھٹو، سحر کامران اور دیگر اراکین بیچ میں آ گئے۔پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جاوید حنیف نے کہا کہ تم لوگوں نے کراچی کو یتیم کیا ہوا ہے، یہ دھمکیاں دے رہے ہیں۔شازیہ مری نے کہا کہ کراچی کیس کے باپ کی جاگیر نہیں وہ سندھ کا شہر ہے، ہمیں کراچی سندھ سے الگ نہیں کرنا اور نہ کرنے دیں گے، کراچی سندھ کا ہے اور وہ سندھ کا رہے گا۔