پنجاب کے ضلع ساہیوال میں تھانہ کمیر کی حدود میں واقع ایک دینی مدرسے سے بچوں اور خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اڈا شبیل میں قائم مدرسے میں مولوی اور ایک ملازم پر بچوں کے ساتھ بدفعلی، خواتین سے زیادتی اور نازیبا حرکات کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ واقعے سے متعلق مبینہ ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد معاملہ منظرعام پر آیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مدرسے سے وابستہ ایک شخص نے مبینہ طور پر متعدد بچوں کو نشانہ بنایا اور نازیبا ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کیا۔ حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ مواد کسی غیر قانونی نیٹ ورک یا آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر کیا گیا یا نہیں۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او ساہیوال محمد عثمان ٹیپو نے فوری کارروائی کا حکم دیا، جس کے بعد پولیس نے مولوی عمر حیات سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید تفتیش جاری ہے۔ ڈی پی او نے واضح کیا کہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکام کے مطابق متاثرہ بچوں اور دیگر افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مبینہ ویڈیوز اور دیگر شواہد کا فرانزک جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔