سکیورٹی ادارے کارروائیاں روکیں‘مظاہرین احتجاج ختم کردیں حکومت آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو کشمیر بھی کھلوائے بلاول بھٹو

 کشمیر کے مسائل کے حل کے لئے ٹروتھ اینڈ  مفاہمتی  کمیشن قائم کیا جائے، سیاستدانوں کا کام عوام کے لئے آواز بلند کرنا اور پل کا کردار ادا کرنا ہے
 جس شخص نے قانون شکنی یا غلطی کی ہے، صرف اسی کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے ‘ چند افراد کے جرائم کی سزا پوری آبادی کو نہیں دی جانی چاہیے:جلسہ سے خطاب
ڈڈیال(آئی این پی ‘مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا  حکومت آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو کشمیر بند پڑا ہے اسے بھی کھلوائے‘ کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے ٹروتھ اینڈ  مفاہمتی  کمیشن قائم کیا جائے۔  آزاد کشمیر کے ضلع  ڈڈیال میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری   نے کہا کہ وہ   الیکشن مہم کے سلسلے میں آئے ہیں اور موجودہ حالات سب کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے اہم الیکشن ہے اور موجودہ صورتحال ریاستِ پاکستان اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک امتحان ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی  نے کہا  کہ سیاست دانوں کا اصل کام عوام کے مسائل حل کرنا اور ان کی آواز بننا ہے، تاہم سیاست دان یہ ذمہ داری موثر انداز میں ادا نہیں کر رہے، کشمیر کے عوام کے لیے پل کا کردار ادا کرنا ہوگا  کیونکہ سیاسی خلا پیدا ہونے پر غیر سیاسی اور انتہا پسند عناصر جگہ بنا لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح کشمیری عوام کی آواز بنیں گے، ان کے مطابق ایسا کوئی مسئلہ نہیں جسے پرامن طریقے سے حل نہ کیا جا سکے جب کہ موجودہ حالات نے ہر پاکستانی اور کشمیری کو پریشان کر رکھا ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ انہیں احتجاج کرنے والوں کا خط موصول ہوا ہے، جس کے بعد وہ ایک تجویز پیش کر رہے ہیں کہ کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے   ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن قائم کیا جائے۔بلاول بھٹو زرداری   نے کہا کہ اس کمیشن کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے جب کہ ان کی تجویز ہے کہ کمیشن کے کام مکمل ہونے تک احتجاج ختم کر دیا جائے۔ انہوں  نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے حقِ حاکمیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، ہماری جماعت عالمی حقِ حاکمیت اور اندرونی حقِ حاکمیت دونوں کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی   نے کہا  کہ وہ پہلے بھی بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو عالمی قصائی قرار دے چکے ہیں اور پیپلز پارٹی کشمیر کاز کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دے گی، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو آزاد کشمیر کے عوام کو ان کے حقوق دلا سکتی ہے، آزاد کشمیر کی نئی نسل مزید حقوق کی خواہاں ہے اور انہیں یہ حقوق دیئے جانے چاہئیں،آئین سازی سڑکوں پر یا زبردستی نہیں ہوتی بلکہ پارلیمان میں ہوتی ہے اور آئین سازی کا عملی کردار ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ادا کیا ہے، کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنا مناسب انصاف نہیں۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی  نے کہا  کہ جس شخص نے قانون شکنی یا غلطی کی ہے، صرف اسی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور اسے سزا ملنی چاہیے، چند افراد کے جرائم کی سزا پوری آبادی کو نہیں دی جانی چاہیے۔بلاول بھٹو نے احتجاج کرنے والوں اور حکومت، دونوں سے اپیل کی کہ عام کشمیری شہریوں کو مشکلات اور تکلیف سے بچایا جائے، جب سیاسی بحران شدت اختیار کرتا ہے تو غیر جمہوری قوتوں کے مداخلت کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔