سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
قوموں کی زندگی میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جومحض عدالتوں کی چاردیواری،پارلیمان کی میزوں یاسرکاری فائلوں تک محدودنہیں رہتے؛وہ رفتہ رفتہ ریاست اورشہری کے باہمی اعتمادکاپیمانہ بن جاتے ہیں۔احتساب بھی ایساہی ایک سوال ہے۔جس ریاست میں قانون کاترازومضبوط ہو،وہاں حکومتیں بدل سکتی ہیں مگرانصاف کامعیارنہیں بدلتا؛اور جہاں قانون کی دھارطاقتورکے دروازے پرپہنچ کرکندہوجائے،وہاں عوام کے دل میں یہ اندیشہ جنم لینے لگتاہے کہ شایدانصاف ایک اصول نہیں بلکہ ایک رعایت بن چکاہے۔
پاکستان میں احتساب کی داستان بھی اسی کشمکش سے عبارت ہے۔کبھی احتساب کوبدعنوانی کے خلاف شمشیرِبے نیام قرار دیاگیا،کبھی اسے سیاسی انتقام کاہتھیارکہاگیا،اورکبھی اس کے دائر اختیار،قانونی ساخت،تفتیشی قوت اورادارہ جاتی آزادی پر سوال اٹھے۔آج بحث ایک بارپھراس مقام پرآکھڑی ہوئی ہے جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ بدعنوانی کتنی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے روکنے اورپکڑنے والے ہاتھ کس قدرآزاد ہیں۔
سب سے پہلاسوال ایک ایسی مالی حدسے متعلق ہے جوبظاہرمحض حساب کتاب کامعاملہ دکھائی دیتی ہے،لیکن اپنی تہہ میں نہایت دوررس قانونی اورسیاسی مضمرات رکھتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرقومی احتسابی ادارے کی کارروائی ایک مخصوص مالی حدسے اوپرکے معاملات تک محدودہوجائے،اوروہ حدبڑھتے بڑھتے تقریبااسی کروڑ روپے تک جاپہنچے،تواس حد سے نیچے آنے والے سنگین مالی معاملات کامؤثراحتساب کس کے سپردہوگا؟قانون میں اعدادکبھی محض اعدادنہیں ہوتے۔ایک مالی حدبعض اوقات دودائروں کے درمیان دیوار کھڑی کردیتی ہے:ایک طرف وہ جرم جوایک خاص ادارے کی گرفت میں آتاہے،اوردوسری جانب وہ جرم جواس کی دسترس سے باہرچلاجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اگراحتساب کی حدودمیں کوئی ایسی تبدیلی واقع ہوئی ہے تواسے محض تکنیکی ترمیم سمجھ کرنظراندازنہیں کیاجاسکتا۔پارلیمان پرلازم ہے کہ قوم کوبتایاجائے کہ اس حدکا فلسفہ کیاہے،اس کاعملی مقصدکیا ہے، اورکیااس کے نیچے آنے والے معاملات کیلئے متبادل ادارہ جاتی بندوبست اتناہی مضبوط ہے جتناکہ ہوناچاہیے۔
پاکستان میں بدعنوانی پرگفتگو اکثربڑے اعداد،مشہورمقدمات،گرفتاریوں اوربرآمدگیوں کے گردگھومتی رہی ہے۔مگراصل سوال شایداس سے زیادہ بنیادی ہے۔اگرکسی تفتیشی ادارے کے پاس وسائل،قانونی اختیار،ادارہ جاتی آزادی اورماہرافرادی قوت نہ ہوتومحض بدعنوانی کی موجودگی کااعتراف کسی علاج کامتبادل نہیں بن سکتا۔سمندرکی وسعت کا شکوہ اس وقت بے معنی ہوجاتاہے جب کشتی کے چپوہی ضبط کرلیے جائیں۔احتساب کانظام محض قوانین کے انبارسے قائم نہیں ہوتا۔اسے تین چیزیں درکارہوتی ہیں۔واضح اختیار ، غیرجانبداراطلاق اورآزادانہ تفتیش۔ان میں سیایک ستون بھی کمزورپڑجائے توپوراادارہ جاتی ڈھانچہ لرزنے لگتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیں بارہایہ سبق دیتی ہے کہ ادارے صرف اپنے نام سے طاقتور نہیں ہوتے؛ان کی اصل قوت اس اختیارمیں ہے جوقانون انہیں دیتاہے،اس آزادی میں ہے جوسیاسی دباؤسے انہیں محفوظ رکھتی ہے،اوراس اعتمادمیں ہے جو عوام ان پرکرتے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کے اجلاس میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈنذیراحمدبٹ سے منسوب یہ الفاظ کہ’’ انہیں بدعنوانی کے سمندرمیں ہاتھ باندھ کرپھینک دیاگیاہے‘‘،اگردرست طورپررپورٹ ہوئے ہیں،تویہ ایک غیر معمولی ادارہ جاتی علامت ہیں۔ یہاںبندھے ہوئے ہاتھ صرف ایک ادبی استعارہ نہیں رہتے؛وہ قانون اوراختیارکے درمیان پیداہونے والی ممکنہ خلیج کی تصویربن جاتے ہیں۔کسی قومی ادارے کے سربراہ کی طرف سے ایساتاثر سامنے آئے توسوال فردکانہیں رہتا،نظام کاہوجاتاہے۔اگرادارے سے نتائج کی توقع رکھی جائے مگراس کے دائرہ عمل کواس حد تک محدود کردیاجائیکہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرسکے،توپھرریاست ایک عجیب تضادکاشکارہوجاتی ہے،وسیع اوربھاری ذمہ داری مگر اختیار محدود۔ایک متوازن جمہوری نظام میں ایسی شکایت کونہ سیاسی نعرہ سمجھ کرردکرناچاہیے اورنہ تحقیق کے بغیرحتمی حقیقت قرار دیناچاہیے۔اسے پارلیمانی تحقیق،قانونی متن اورسرکاری وضاحت کے ذریعے پرکھناچاہیے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق،نیب کے دائر اختیارکیلئے پچاس کروڑروپے کی مالی حدکاذکرسامنے آتاہے،جبکہ چیئرمین نیب کی جانب سے اسے بیس کروڑروپے تک لانے کی خواہش یادرخواست بھی بیان کی گئی ہے۔مزیدیہ دعویٰ کیاگیاہے کہ قانونی ترمیم کے نتیجے میں حدکومہنگائی کے اشاریے سے منسلک کرنے کابندوبست وجودمیں آیا،جس سے یہ رقم موجودہ حالات میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔یہ معاملہ محض ہندسوں کی کشمکش نہیں۔اگر قانون واقعی مالی حدکوکسی معاشی اشاریے سے منسلک کرتاہے توسوال اٹھتا ہے کہ اس بندوبست کاقانونی مقصدکیاتھا؟کیایہ ادارے کوصرف بڑے اورپیچیدہ مالی جرائم تک محدودرکھنے کیلئے بنایاگیا،یا اس کیایسے غیرارادی نتائج پیداہوئے جن سے احتساب کاایک وسیع میدان دوسرے اداروں کے سپردہوگیا؟قانون سازی میں نیت اہم ہوتی ہے،لیکن نتیجہ اس سے بھی زیادہ اہم۔ایک شق کاغذ پرمعقول دکھائی دے سکتی ہے،مگر عملی دنیامیں اس کے اثرات بالکل مختلف نکل سکتے ہیں۔
یہ سوال اپنی طنزیہ کاٹ کے باوجودنہایت سنجیدہ ہے۔مہنگائی کااشاریہ عام طورپرقوتِ خرید،قیمتوں اورمعاشی تغیرکے تعین میں استعمال ہوتاہے۔لیکن اگرکسی احتسابی دائر اختیارکی مالی حدبھی اسی رفتارسے بڑھتی رہے توایک عجیب قانونی صورت پیداہوسکتی ہے۔عوام کی زندگی میں مہنگائی روٹی،بجلی،دوااورتعلیم کومہنگا کرتی ہے؛لیکن اگراسی مہنگائی کے اثرات سے حتساب کی مالی حد بھی بڑھنے لگے توعام ذہن میں یہ سوال فطری ہے کہ کیامالی جرم کاوہ حجم جس پرایک مخصوص ادارہ حرکت میں آسکتا ہے،وقت کے ساتھ بلندترہوتاچلاجائے گا؟
یہاں قانون سازکودومقاصدمیں توازن پیداکرناپڑتاہے:ایک طرف قومی احتسابی ادارے کومعمولی نوعیت کے مقدمات کے بوجھ سے بچانا،دوسری طرف ایساخلاپیدانہ ہونے دیناجس میں بڑے مگرمقررہ حدسے کم مالی جرائم مثرکارروائی سے محروم رہ جائیں۔قانون کا حسن اسی توازن میں ہے۔فراہم کردہ نکات اس بحث کو2022 یں ہونے والی نیب ترامیم سے جوڑتے ہیں۔ا ن ترامیم کے بعد تعداد معاملات کے نیب کے دائر اختیار کے باہرآنے پر ایک وسیع قومی بحث پیدا ہوئی کہ احتساب کے نظام میں اصلاح کہاں ختم ہوتی ہے اورا دارہ جاتی کمزوری کہاں شروع ہوتی ہے۔احتسابی قوانین میں تبدیلی بذاتِ خود معمولی امر ہیں۔دنیاکے مختلف ممالک وقتافوقتااپنے اینٹی کرپشن نظام کوعدالتی فیصلوں، انسانی حقوق،سیاسی تجربات اورانتظامی ضرورتوں کے مطابق تبدیل کرتے ہیں۔لیکن اصل اصول یہ ہے کہ اختیاراگر ایک ادارے سے لیاجائے توخلا پیدانہیں ہوناچاہیے۔
اگرکوئی مقدمہ نیب کے دائرے سے نکل کرکسی دوسرے ادارے کے پاس جاتاہے تومحض فائل کی منتقلی کافی نہیں۔سوال یہ ہے کہ کیانئے ادارے کووہی تفتیشی استعداد،مالیاتی مہارت ، فرانزک صلاحیت،قانونی تحفظ اورادارہ جاتی خودمختاری حاصل ہے؟ایک دروازہ بندکرنا اصلاح ہوسکتی ہے،مگرصرف اس صورت میں جب دوسرادروازہ واقعی کھلاہو۔
جدید مالی بدعنوانی وہ پراناجرم نہیں جس میں صرف نقدرقم یاجعلی رسیدپکڑلینا کافی ہو۔آج مالی جرائم کارپوریٹ ڈھانچوں، فرنٹ کمپنیوں،پیچیدہ بینکاری لین دین،ڈیجیٹل ریکارڈ، غیر ملکی اکانٹس،بے نامی ملکیت،مالیاتی پرتوں اورقانونی پردوں کے پیچھے چھپ سکتے ہیں۔ایسے جرائم کی تفتیش کیلئے مالیاتی فرانزک،ڈیجیٹل فرانزک،اکاؤنٹنگ،بینکاری قانون ،بین الاقوامی تعاون اورتربیت یافتہ تحقیقاتی عملہ درکارہوتاہے۔
لہذا اگرمعاملات ایف آئی اے یاصوبائی احتسابی اداروں کی طرف منتقل ہوتے ہیں توصرف قانونی اختیارکافی نہیں۔صلاحیت بھی اسی درجے کی ہونی چاہیے۔اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ آزادی کاہے۔اگرصوبائی سطح کاادارہ انتظامی طورپرایسی حکومت کے زیراثرہوجس کے کسی عہدیداریابااثرحلقے کے خلاف تحقیقات مطلوب ہوں تومفادات کے تصادم کا اندیشہ پیدا ہوتاہے۔انصاف صرف ہونانہیں چاہیے؛ہوتاہوادکھائی بھی دیناچاہیے۔(جاری ہے)