سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یہ حال صرف انہی کانہیں جنہیں حالات کی سمجھ عطاہوئی ہے،مگرانہی کے سینے میں یہ دردآبلہ بن چکاہے۔انہی کی نیندیں اڑچکی ہیں یہی حال آج ان لوگوں کاہے جن کے سینے میں پاکستان کادردناسوربن چکاہے۔جن کے دل چین سے محروم ہیں۔نیم شب جب وہ اپنے رب کے حضورسجدہ ریزہوتے ہیں توہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔وہ پاکستان کی سلامتی کی دعا مانگتے ہوئے اس دھرتی کے لاکھوں شہداکا واسطہ دیتے ہیں،وہ شہداجنہوں نے اس وطن کی خاطراپناسب کچھ قربان کردیااورپھرایک لرزہ خیزسوال دل کوچیردیتاہے:اورسوچتے ہیں ،روزِقیامت ہم ان پاکیزہ قربانیوں کاکیاجواب دیں گے؟
اے صاحبانِ اختیار،اے اہلِ وطن:ذراتصورکرو،روزِقیامت اس دھرتی کے شہداتمہارے سامنے کھڑے ہوں گے۔وہ پوچھیں گے،ہم نے جانیں دیں،تم نے کیادیا؟اللہ تعالی فرماتاہے:یہ نہ سمجھوکہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔ (ابراہیم:42)
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
یہ کیفیت صرف اہلِ دردکی نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جولوگ آنے والے طوفان کوپہلے دیکھ لیتے ہیں،وہ خاموش نہیں بیٹھتے۔طوفان کو پہلے دیکھ لینے والوں پرخاموش رہناحرام ہوجاتا
ہے۔وہ منادی کرتے ہیں،وہ خبردارکرتے ہیں،وہ رات دن،دامے،درمے،سخنے یہی سوچتے ہیں کہ کسی طرح تباہی کوٹالاجاسکے۔میرامقصدنہ مایوسی پھیلاناہے اورنہ خوف۔ مگر ذراسوچیے،اگرآپ کاکوئی عزیزجان لیوا مرض میں مبتلاہوجائے توکیاآپ چین سے بیٹھ سکتے ہیں؟کیاآپ دنیاکے بہترین ڈاکٹر،سب سے ماہرسرجن کی تلاش میں دن رات ایک نہ کردیں گے؟کیا اپنی استطاعت سے بڑھ کرخرچ نہیں کریں گے؟اورسب کچھ کرنے کے بعدسجدے میں گڑگڑاکریہ نہیں کہیں گے کہ یا رب شفاتیرے ہی ہاتھ میں ہے؟
پھریہ وطن،یہ توہمارااجتماعی وجودہے،ہماری شناخت،ہماری پہچان ہے،ہماراکل ہے،ہمارے بچوں کامستقبل ہے۔سیاسی سراب اوربڑھتا اندھیرا،ہرحکومت کے خاتمے پرعوام سکھ کاسانس لیتی ہے کہ شایداب حالات بدلیں گے،شایداب اندھیراچھٹے گا،مگرافسوس،اندھیراکم ہونے کی بجائے بڑھتااورگہراہوتاجارہاہے۔مہنگائی نے پہلے ہی جینادوبھرکر رکھا ہے اوراس پرمستزادبجلی اورگیس کے بلوں نے کمر توڑدی ہے۔وہ جوکل ترقی کے نعرے لگاتے تھے،آج شرمندگی سے نظریں چرا رہے ہیں۔اللہ تعالی فرماتاہے:
جب ہم کسی بستی کوہلاک کرناچاہتے ہیں تواس کے خوشحال طبقے کوڈھیل دیتے ہیں، وہ نافرمانی کرتے ہیں،پھرعذاب آجاتاہے۔(بنی اسرائیل:16)کیاتم نے کبھی سوچاکہ کہیں یہ ڈھیل آزمائش تونہیں؟اقتدارامانت ہے،غنیمت نہیں۔
رسولِ اکرم ﷺنے فرمایا’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے،اورہرایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا(بخاری ومسلم)
جب قومیں عدل سے محروم ہوجائیں،ظلم پرآوازبلنداوراحتجاج کرناچھوڑدیں،ایک دوسرے کے دکھ سے بیگانہ ہوجائیں،اورصرف اپنی ذات کی سلامتی کی دعامانگنے لگیں توپھر اصلاح کیلئے اٹھنے والے ہاتھ بھی بے اثرہوجاتے ہیں توپھراللہ کی نصرت بھی رک جاتی ہے۔ عدل،انصاف اورحکمرانی کی ذمہ داری نہیں نبھائی،توقیامت میں جواب دیناپڑے گا ۔اے فیصلہ کرنے والویہ قوم تمہاری رعیت ہے۔اس کے آنسوتمہارے گریبان سے لپٹیں گے۔یادرکھو،عدل کے بغیرریاستیں زندہ نہیں رہتیں۔ اللہ تعالی کا اعلان ہے
ِبے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے(النحل:90)
اوررسولﷺنے خبردارفرمایا:ظلم سے بچو،کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کاسبب ہوگا۔(مسلم)
مایوسی کفرکے قریب لے جاتی ہے،آج قوم کوجان بوجھ کرمایوسی میں دھکیلاجارہاہے۔خبرداریہ سب سے خطرناک ہتھیارہے۔اللہ فرماتا ہے (الذمر:53)
آج ایک منظم منصوبے کے تحت پاکستانی قوم کومایوسی کی جھاڑیوں میں اس طرح پھنسایااوردھکیلاجارہاہے کہ پھرخون آشام درندے چھوڑدیے جائیں۔یادرکھیے،مایوسی ایٹمی تابکاری سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔دنیانے دیکھاہے کہ قومیں ایٹمی تباہی کے بعدبھی امید کے سہارے دوبارہ کھڑی ہوگئیں،مگرمایوسی نے وہ جانیں لی ہیں جوجنگیں بھی نہ لے سکیں۔
امیدکاچراغ بجھادینادراصل زندگی کی جنگ ہاردینے کے مترادف اورمنزل سے دستبرداری ہے۔دردزندگی کی علامت ہے،خون بہے تو انسان علاج کی فکرکرتاہے،بچاؤکی تدبیر کرتا ہے۔مریض وہی بچتاہے جوجینے کی آرزورکھتاہو۔مایوسی شیطانی ہتھیارہے۔ابلیس کی پہچان ہی ناامیدی ہے۔ابلیس صرف شیطان کانام نہیں،عربی لغت میں مایوس روح کوبھی ابلیس کہاگیاہے۔رسولِ رحمتﷺکافرمان ہے: زندگی پرسوارہوجا،ورنہ زندگی تم پرسوارہوجائے گی۔رسولﷺنے فرمایا:طاقتورمومن کمزورمومن سے بہتراوراللہ کو زیادہ محبوب ہے(مسلم)طاقت صرف بازوں کی نہیں،حوصلے،یقین اورکردارکی بھی ہوتی ہے۔
میں نے اپنے وجدان کے بوجھ تلے،پوری دیانت اوردردکے ساتھ یہ صدابلندکی ہے۔اب یہ صداجن ایوانوں تک پہنچنی چاہیے۔اقتداروالو سے آخری صداہے:اب بھی وقت ہے۔عدل اورانصاف کوزندہ کریں،مایوسی کی بیخ کنی کریں،اقتدارکوامانت سمجھیں،حق داروں کوامانت لوٹائیں،قوم کوامیداورراستہ دیں،اوراللہ کے حضورجھک جاؤ۔
اے صاحبانِ اختیار،ظلم سزا کی نوید ہے۔یادرکھیں،اقتدارغنیمت نہیں،امانت ہے۔ذراٹھہریے،اپنے عہدوں،اپنے اختیارات،اپنی طاقت اوراپنی منصوبہ بندی سے ایک لمحہ نظریں ہٹاکراپنے انجام کی طرف دیکھیے۔ قرآن اعلان کرتا ہے : انہیں روک لیاجائے گا،بے شک ان سے سوال کیاجائے گا(الصافات:24)
وہ دن آرہاہے جب نہ پروٹوکول کام آئے گا،نہ دستاویزات،نہ بیانیے،نہ ادارے،صرف اعمال بولیں گے۔وہاں یہ سوال گونجے کیاہمیں اللہ کے حضورجواب دہ نہیں ہونا؟ کیا اقتدارامانت نہیں؟کیااس قوم کے آنسوعرش کونہیں ہلاتے؟اقتدارعیش نہیں،امانت ہے۔یہ آنسو،یہ آہیں،یہ سسکیاں عرش تک پہنچتی ہیں۔اب بھی وقت ہے اگرخوفِ آخرت جاگ جائے،اگرعدل کوزندہ کردیاجائے،اگررحم اوردیانت کااعلان ہو جائے تویہ مریض سانس لے سکتاہے،اورایک بارپھراسلامی معاشرے کی ایمانی خوشبواس دھرتی پرلوٹ سکتی ہے۔عوامی امیدکوزندہ رکھو۔
یہ وعظ صرف ایوانوں اورحکمرانوں کیلئے نہیں،یہ تمہارے لیے بھی ہے۔کیاتم نے ظلم کوصرف اس لیے قبول کرلیاکہ وہ تم پربراہِ راست نہیں آرہا؟کیاتم خاموش ہوگئے ہوکہ کہیں تمہاری باری نہ آجائے؟خاموشی اورمایوسی خوددشمن ہیں۔اے عوام!حق کہنامت چھوڑو، مایوسی کوٹھکرادو،اوراصلاح کاراستہ اپنا۔یادرکھو خاموش تماشائی بھی جرم میں شریک ہوتے ہیں۔قرآن خبردارکررہاہے: ظالموں کی طرف جھکانہ رکھو،ورنہ آگ تمہیں بھی آلے گی(ہود:113)
صرف اپنی ذات کی سلامتی مانگنا کافی نہیں،قومیں اجتماعی دعااوراجتماعی اصلاح سے بچتی ہیں۔
رسولﷺنے فرمایا:جب لوگ ظالم کودیکھیں اوراس کاہاتھ نہ پکڑیں توقریب ہے کہ اللہ سب کوعذاب میں مبتلاکردے(ترمذی)
اگرخوفِ آخرت جاگ گیا،تویہی مریض پاکستان پھرکھڑاہوسکتاہے۔اوراگریہ لمحہ بھی گنوادیاتوتاریخ معاف نہیں کرے گی،اوررب کائنات توہرگز نہیں۔
اے اس دھرتی کے رہنے والو:یہ تحریراگردل کوچیرگئی ہے،اگریہ الفاظ تمہارے سینے میں آگ بن کراترے ہیں توجان لوکہ دل ابھی زندہ ہے۔مردہ قومیں دردمحسوس نہیں کرتیں۔یہ وقت رونے کانہیں،اٹھ کھڑے ہونے کاہے۔اگرآنکھ نم ہوئی ہے توجان لوکہ امیدابھی مری نہیں۔ قومیں اسی نمی سے سیراب ہوکراٹھتی ہیں۔یہ وقت الزام درالزام کانہیں،یہ وقت سمت درست کرنے کاہے۔یہ وقت یہ طے کرنے کا ہے کہ ہم تاریخ کے تماشائی بنیں گے یااس کے معمار۔اندھیراکسی ایک چراغ سے نہیں ڈرتا،وہ چراغوں کے قافلے سے بھاگتا ہے۔
اے اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھنے والو!خبردار!تاریخ تمہاری منتظرنہیں رہتی اورنہ ہی تاریخ تاخیرکومعاف کرتی ہے۔وہ فیصلوں کے لمحے میں لکھی جاتی ہے۔وہ دن آتاہے جب نہ وردی کام آتی ہے،نہ عہدے،قلم،نہ مہر،نہ بیان۔یادرکھو،تخت وتاج عارضی ہیں،مگرعدل دائمی ہے۔وہ دن آتاہے جب نہ پروٹوکول کام آتاہے،نہ بیانیے،نہ توجیہاتصرف اعمال بولتے ہیں۔قرآن کی صداآج بھی گونج رہی ہے: "انہیں روک لیاجائے گا،بے شک ان سے سوال کیاجائے گا"۔اس سوال کی تیاری کرلوکیونکہ اس مریض کے آنسوبڑی سرعت کے ساتھ عرش تک کوہلانے کیلئے منتظرہیں۔اگرآج رحم، دیانت اورانصاف کوزندہ کردیاگیا،تویہی مریض سانس لے لے گا،اگرآج عدل زندہ ہواتو ریاست بچے گی،اگرآج بھی ظلم کودوام ملاتوفیصلہ اللہ کی عدالت میں ہوگااوراگرآج بھی تاخیر کی گئی توتاریخ کی سرجری بے رحم ہوگی،اوروہاں کوئی بچ نہیں سکتا۔
اوراے عوام،سن لو!یہ خطاب صرف ایوانوں کیلئے نہیں۔خاموشی اورمایوسی سب سے خطرناک ہتھیارہیں۔خاموش تماشائی بھی جرم میں شریک ہوتے ہیں۔خاموشی جرم ہے،اور مایوسی کفرکے دہانے پرکھڑاہوناہے۔حق کہناچھوڑدوگے توباطل کوتقویت ملے گی۔ظلم کوصرف اس لیے قبول نہ کروکہ وہ ابھی تمہاری دہلیزپرنہیں آیا۔یادرکھو،جب آگ لگتی ہے تووہ گلی نہیں پوچھتی۔حق کہناتمہارافرض ہے،اور باطل کے سامنے جھک جاناتمہاری ہار۔امیدکوزندہ رکھوکیونکہ امیدکے بغیراصلاح ممکن نہیں۔
یہ مریض پاکستان آج بھی زندہ ہوسکتاہے ،بچ سکتاہے اگرخوفِ آخرت جاگ جائے،اگرعدل کوشعاراورہتھیاربنالیاجائے،اگراقتدارکو امانت سمجھ لیاجائے،اوراگرعوام مایوسی کے خول سے باہرنکل آئیں۔اگرامیدکوسینے سے لگالیاجائے۔یہ اختتام کسی داستان کانہیں،یہ آغازکی دستک ہے۔یہ اعلان ہے،یاتوہم اس اعلان پرلبیک کہیں گے،ہم اس دستک پردروازہ کھولیں گے،یاپھرتاریخ ہمارے دروازے توڑ کرباعثِ عبرت بنادے گی۔فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔