یوسف رضا گیلانی ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز سے باعزت بری، عدالت کا تاریخی فیصلہ

یوسف رضا گیلانی ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز سے باعزت بری، عدالت کا تاریخی فیصلہ

وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے سابق وزیر اعظم اور موجودہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو ٹڈاپ (TDAP) میگا کرپشن کیسز سے باعزت بری کر دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ مقدمات میں شواہد کی عدم موجودگی اور قانونی نکات کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا گیا۔

عدالت کا فیصلہ
وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ کراچی میں ٹڈاپ کرپشن کیسز کی سماعت ہوئی جس میں یوسف رضا گیلانی خود عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے گیلانی سمیت تمام ملزمان کو 14 مقدمات سے بری کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ:"تمام کیسز کو انفرادی طور پر سنا گیا، اور جو مقدمات ہائیکورٹ سے ہمارے پاس منتقل ہوئے، ان پر بھی مکمل سماعت کے بعد فیصلہ دیا گیا۔"
قانونی ٹیم کا مؤقف
معروف وکیل فاروق ایچ نائیک نے کیس کی پیروی کی اور سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"2013 اور 2014 میں 26 مقدمات بنائے گئے جن کا مرکزی الزام TDAP سبسڈی کی مد میں 50 لاکھ روپے لینے کا تھا۔""یہ مقدمات ایک شخص کی شکایت پر ایف آئی اے نے بنائے، جس میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔""یوسف رضا گیلانی 10 مقدمات میں ضمانت پر تھے لیکن ایف آئی اے نے انہیں مفرور قرار دے دیا۔""عدالت نے انصاف کیا، ہم معزز جج کے شکر گزار ہیں۔"
یوسف رضا گیلانی کا ردعمل
یوسف رضا گیلانی نے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں آج باعزت بری ہو گیا۔ فاروق ایچ نائیک نے بہترین قانونی جنگ لڑی۔"انہوں نے مزید کہا:"جنہوں نے مجھ پر مقدمات بنائے، وہ آج میرے اتحادی ہیں۔ میں ان کو چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ اس نظام میں قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ فیصلہ نہ ہونے والے کیسز خود بخود ختم ہو جائیں۔"
کیس کا پس منظر
2009: ایف آئی اے نے ٹڈاپ سبسڈی اسکیم میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کیا۔
2013: 26 مقدمات کا اندراج شروع کیا گیا۔
2015: یوسف رضا گیلانی کو حتمی چالان میں ملزم نامزد کیا گیا۔
پہلے 12 کیسز میں وہ پہلے ہی بری ہو چکے تھے۔اب عدالت نے باقی 14 کیسز میں بھی بری کر دیا، یوں وہ تمام 26 مقدمات سے مکمل بری ہو چکے ہیں۔
سیاسی اور قانونی حلقوں میں ردعمل
فیصلے کو قانونی برادری میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین اسے سابق وزیر اعظم کی اخلاقی فتح قرار دے رہے ہیں۔