چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کرپشن اسکینڈل کے مزید 9 مقدمات سے بری کر دیا گیا۔
اس طرح وہ اب تک 26 میں سے 13 مقدمات سے باعزت بری ہو چکے ہیں۔
عدالتی فیصلہ:
فیصلہ کراچی کی وفاقی انسدادِ بدعنوانی عدالت نے سنایا۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا،لہٰذا یوسف رضا گیلانی اور دیگر شریک ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔
مقدمات کا پس منظر:
الزام: جعلی کمپنیوں کے ذریعے فریٹ سبسڈی کی مد میں 7 ارب روپے سے زائد کی رقم ہڑپ کی گئی۔ایف آئی اے نے 2013 اور 2014 میں ٹڈاپ اسکینڈل میں 26 مقدمات دائر کیے۔گیلانی کو 2015 میں ان مقدمات کے چالان میں نامزد کیا گیا۔ان پر 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام تھا، جو براہِ راست نہیں بلکہ ایک تیسرے فریق کے ذریعے منسوب کیا گیا۔
یوسف رضا گیلانی کا ردعمل:
میڈیا سے گفتگو میں کہا:"یہ سیاسی نوعیت کے مقدمات ہیں، جن کا مقصد کردار کشی تھا۔12 سال تک مقدمات کا چلنا انصاف میں تاخیر ہے۔"انہوں نے ایک دلچسپ پہلو بھی اجاگر کیا:
"جس کیس میں میں ملزم تھا، آج ایک طالبہ پراسیکیوٹر بن کر پیش ہوئی، یہ وقت کا سفر ہے۔"صدر آصف زرداری کے استعفے یا صحت سے متعلق افواہوں پر گیلانی نے کہا:"کوئی صداقت نہیں، سب افواہیں ہیں۔"
فاروق ایچ نائیک کا مؤقف:
وکیل دفاع نے کہا:"کوئی گواہ یا ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔عدالت پہلے بھی اسی نوعیت کے 3 مقدمات میں گیلانی کو بری کر چکی ہے۔باقی 14 مقدمات کی اپیلیں ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں۔"
سیاسی پہلو:
گیلانی نے واضح کیا کہ:"پیپلز پارٹی کی قیادت ہی پنجاب میں حکمت عملی طے کرے گی۔میں حکومت کا ترجمان نہیں، بلکہ سینیٹ کا متفقہ چیئرمین ہوں۔"