واشنگٹن(آئی این پی )ماہرینِ فلکیات نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک دور دراز ستارے کے گرد سیاروں کی تخلیق کے عمل کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے، جو نہ صرف فلکیاتی دنیا کے لیے اہم پیش رفت ہے بلکہ ہمارے اپنے نظامِ شمسی کی پیدائش کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔یہ نیا نظامِ سیارگان ایک نوخیز ستارے HOPS-315 کے گرد تشکیل پا رہا ہے، جو ہمارے سورج جیسا ہے اور زمین سے تقریبا 1,300 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، اورائن نیبولا میں۔سائنسدانوں نے ہماری نظام شمسی سے گزرنے والی انٹرسٹیلر شے دریافت کرلی ۔نوخیز ستاروں کے گرد گیس اور گرد و غبار کی ضخیم تہیں پائی جاتی ہیں جنہیں پروٹو پلینیٹری ڈِسکس کہا جاتا ہے۔