واشنگٹن (خصوصی رپورٹ )سائنسدانوں نے کائنات کے بارے میں ایک نئی اور دلچسپ بحث چھیڑ دی ، جس میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہمارے کائنات کو چلانے والی چار معلوم قوتوں کے علاوہ ایک نامعلوم پراسرار پانچویں قوت بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلا وکے پیچھے چھپا اصل محرک ہو سکتی ہے۔یہ خیال موجودہ فزکس کیلئے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہماری کائنات کی سمجھ کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ناسا کے ماہرین کے مطابق، اس دریافت کے لیے ہمیں دور دراز کی کہکشاں کے بجائے اپنے نظامِ شمسی میں موجود شواہد پر توجہ دینی ہوگی۔یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہم اب تک فطرت کی چار بنیادی قوتوں کو جانتے ہیں،: کششِ ثقل، برقی مقناطیسیت ، مضبوط نیوکلیئر قوت اور کمزور نیوکلیئر قوت۔ یہ چاروں قوتیں کائنات کے زیادہ تر نظام کو کنٹرول کرتی ہیں، لیکن سائنس دانوں کے مطابق یہ کائنات کی مکمل وضاحت نہیں کرتیں۔سائنسی ویب سائٹ سائنس ڈیلی کے مطابق ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کا کہنا ہے کہ، کائنات کا تقریبا 95 فیصد حصہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی پر مشتمل ہے، جسے آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا۔یہ ممکنہ پانچویں قوت دراصل اس پراسرار مادے اور ہمارے نظر آنے والے مادی جہان (ستاروں اور سیاروں) کے درمیان ایک پل کا کام کر سکتی ہے۔ اس کا سراغ ملنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بگ بینگ کے بعد کائنات کی تشکیل کے اصل مراحل کیا تھے۔ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کی تجویز ہے کہ اس قوت کو ثابت کرنے کیلئے چاند اور زمین کے درمیان لیزر شعاعوں کے ذریعے فاصلے کی انتہائی درست پیمائش کی جائے۔اگر کششِ ثقل کے روایتی حساب کتاب اور تجرباتی نتائج میں معمولی سا فرق بھی پایا گیا، تو یہ اس پانچویں قوت کی موجودگی کا حتمی ثبوت ہوگا۔تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی مشنز جیسے اقلیدس اربوں کہکشاں کا معائنہ کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ پانچویں قوت کی تصدیق کے لیے ہمیں اپنے پڑوس یعنی نظامِ شمسی میں تجربات کرنے ہوں گے۔