سیف علی خان کو ہسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کی کہانی اور تفصیلات

سیف علی خان کو ہسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کی کہانی اور تفصیلات

بالی وڈ اداکار سیف علی خان کو گزشتہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک حملے کے بعد شدید زخمی حالت میں رکشہ کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔

 اس واقعے کے بعد رکشہ ڈرائیور منظر عام پر آ گیا ہے جس نے اس رات کی تفصیلات بتائیں، اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔47 سالہ آٹو رکشہ ڈرائیور نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ باندرہ کے علاقے میں اپنے رکشے میں معمول کے مطابق سفر کر رہا تھا، کہ ایک خاتون نے مدد کے لیے اسے آواز دی۔ ابتدا میں رکشہ ڈرائیور کو یہ نہیں پتا چلا کہ وہ شخص سیف علی خان ہیں، اور اسے لگ رہا تھا کہ وہاں کوئی معمول کا جھگڑا ہوا ہے۔ تاہم، اس کا خیال بدلا جب خود سیف علی خان خون میں لت پت حالت میں اس کی گاڑی کی طرف چل کر آئے۔آٹو ڈرائیور نے مزید بتایا کہ سیف علی خان کے ساتھ ایک عورت، ایک جوان آدمی اور ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔ ڈرائیور نے کہا، "وہ خود میری طرف آئے، زخمی حالت میں تھے، اور مجھے انہیں فوراً ہسپتال لے جانا تھا۔" وہ 8 سے 10 منٹ میں ہسپتال پہنچ گئے۔

رکشہ ڈرائیور کے مطابق، سیف علی خان کا سفید کرتا خون سے پوری طرح لال ہو گیا تھا، اور ان کے گلے سے خون بہ رہا تھا، جب کہ پیچھے بھی چوٹیں آئی تھیں۔ جب رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا سیف علی خان کے بیٹے نے اس واقعے کو دیکھ کر خوف کا اظہار کیا؟ تو ڈرائیور نے بتایا کہ بچہ بالکل نارمل تھا اور بات چیت کر رہا تھا، وہ بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھا۔اس حادثے کے بعد، لیلاوتی ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر نیروت اوتامانی نے سیف علی خان کو "ہیرو" قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیف علی خان چلنے کے قابل تھے اور فالج کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ سیف علی خان ایک انچ کے فرق سے بڑی چوٹ سے بچ گئے کیونکہ چاقو کا زخم ان کی ریڑھ کی ہڈی سے صرف 2 ملی میٹر دور تھا۔

ڈاکٹر نے مزید کہا کہ سیف علی خان خون سے لت پت حالت میں ہسپتال پہنچے، لیکن انہوں نے اسٹریچر کا استعمال نہیں کیا، بلکہ اپنے بیٹے کے ساتھ خود چل کر ہسپتال کے اندر گئے۔یہ واقعہ سیف علی خان کے لیے ایک سنگین حادثہ تھا، لیکن ان کی بہادری اور مضبوط جسمانی حالت نے ان کو ایک ممکنہ تباہی سے بچا لیا۔