شریعت محمدؐ میںخود کشی کرنااوراس کی طرف لے جانے والے جملہ امورحرام ہیں
حکومت انسانی جانوں کے دشمن ایجنٹ حضرات کے حوالے سے قانون سازی کرے :فتویٰ
لاہور(خصوصی رپورٹر)جامعہ نعیمیہ کے دارالافتار کی طرف سے جاری فتویٰ میں بتایا گیا ہے ڈنکی لگاکربیرون ملک جانا قانونی ،شرعی لحاظ سے جائز نہیں۔بیرون ملک جانے والے افراد قانونی طریقے اورمحفوظ راستے اختیار کریں۔غیر قانونی کام کے پیسے لینا ایجنٹ حضرات کے لئے جائز نہیں۔حکومت انسانی جانوں کے دشمن ایجنٹ حضرات کے حوالے سے قانون سازی کرے ۔فتوی جاری کرنے والوں میں جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹرمفتی راغب حسین نعیمی،انچارچ شعبہ دارالافتاء جامعہ نعیمیہ مفتی عمران حنفی شامل ہیں۔فتویٰ میں مزید کہاگیا ہے کہ ہربندے کاجسم وجان اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی پاس امانت ہوتی ہے۔اس امانت کی حفاظت کرنا اس کااولین فرض ہے اوراس میں خیانت کرنے کااسے حق نہیں۔غیرقانونی طورپرڈنکی لگاکراپنی جان خطرے میںڈال کرلبیاپھر یورپ وغیرہ جانا اپنی جان کوہلاکت میں ڈالنااورخودکشی کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ اس سے منع فرمایاہے۔قرآن کریم میںارشاد باری ہے کہ ’’اوراپنے ہاتھوں سے خود کوہلاکت میں نہ ڈالو‘‘لہذا خود کو ہلاکت میں ڈالنا یاایسا عمل کرنا جوہلاکت کاباعث ہوہرگزہرگزجائز نہیں۔شریعت محمدی ؐ میںخود کشی کرنااوراس کی طرف لے جانے والے جملہ امورحرام ہیں۔ڈنکی لگانا جانی خطرہ کے علاوہ غیرقانونی بھی ہے ا ورغیرقانونی معاملہ کی وجہ سے بندہ پکڑا جائے توذلت ورسوائی اورقیدوبندکی صعوبتوں کاسامنابھی کرناپڑتاہے۔اورمومن کیلئے جائز نہیں کو وہ اپنے آپ کو ذلت سے دوچارکرے۔مفتیان کرام نے مزید کہاکہ خطرناک جان لیوا سمندری سفرکرکے یورپ جانے والے جملہ افراد سے گزارش ہے کہ آپ روزگار کے سلسلہ میں دوسرے ممالک جائیں لیکن قانونی طریقہ اورمحفوظ راستہ سے جائیں تاکہ آپ کی جان بچ جائے اورساتھ ساتھ قانون کی خلاف وزری بھی نہ ہواورآپ کے غیرقانونی عمل سے اسلام اورپاکستان کی بدنامی ہوتی ہے لہذا اسلام ،پاکستان اوراپنے آپ کو بدنامی سے بچائیں۔جوایجنٹ حضرات پیسے لے کر ان کے اس سفر میں معاون بنتے ہے وہ بھی اس گناہ میں شریک ہیں۔قرآن کریم میں ارشاد ہوتاہے’’اورگنا ہ اورنافرمانی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مددنہ کرو‘‘غیر قانونی کام کے پیسے لینا ایجنٹ حضرات کے لئے جائز نہیں۔حکومت وقت انسانی جانوں کے دشمن ایجنٹ حضرات کے حوالے سے سخت قانون سازی کرے اوران کوکڑی سے کڑی سزا دالوائے تاکہ انسانی جانو ں کا ضیاع نہ ہو