پاکستان ، روس تعلقات محض دوطرفہ سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ کثیرالجہتی، علاقائی اور عالمی تناظر اختیار کر چکے ہیں دونوں ممالک خودمختاری کے احترام اور اقوام کے باہمی عدم مداخلت کے اصولوں پر یکساں موقف رکھتے ہیں ،مشاہد حسین سید
ماسکو(آئی این پی )روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسپاکستان یوریشین فورم 2025 کا 2 روزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشن (یو ڈبلیو سی ) فورم کا انعقاد سفارت خانہ پاکستان، ماسکو کی سرپرستی میں کیا گیا جبکہ اس کی مشترکہ میزبانی کنسورشیم آف ایشیا پیسفک یوریشین سٹڈیز (CAPES)، یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشن، روس اور فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (FUUAST)، پاکستان نے کی ۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر برائے روس فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان علاقائی رابطہ کاری، تجارت اور عوامی روابط کے حوالے سے خیالات میں نمایاں ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے۔فورم سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یوریشیائی خطہ تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے سنگم پر واقع ہے، جس کی بدولت وہ یوریشیا میں رابطہ کاری اور تعاون کے فروغ میں قدرتی کردار ادا کر سکتا ہے۔سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات محض دوطرفہ سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ تعلقات کثیرالجہتی، علاقائی اور عالمی تناظر اختیار کر چکے ہیں