پاکستان روس سے تیل اور گیس کی درآمد پر غور کر رہا ہے سفیرفیصل نیاز ترمذی

  آبنائے ہرمز کی بندش نے پاکستان سمیت کئی ممالک کیلئے  تشویش پیدا کر دی ،  مذاکرات میں بحالی سب سے اہم مسئلہ بن چکا ہے
امید ہے  سفارتی کوششوں کے ذریعے موجودہ بحران کو پرامن حل کی جانب لے جایا جا سکے گا:روس  میں پاکستانی سفیر کی گفتگو
ماسکو(آئی این پی )روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے  آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث پاکستان روس سے تیل کی درآمدات بڑھانے پر غور کر رہا ہے جبکہ ایران سے متعلق جاری مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی بحالی سب سے اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ ایک  روسی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں  فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا صرف تقریبا 10 فیصد خود پیدا کرتا ہے جبکہ باقی توانائی خلیجی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے، اسیلئے  آبنائے ہرمز کی صورتحال نے پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کے بعد پاکستان نے متبادل توانائی ذرائع تلاش کرنا شروع کر دئیے ہیں، جس کے تحت روس سے تیل اور توانائی وسائل کی درآمدات میں اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ   مستقبل میں ترکمانستان اور روس سے جنوبی ایشیا تک متبادل پائپ لائن منصوبوں پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے، اسلام آباد صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ پورے یوریشین خطے کو سڑکوں، ریلوے، پائپ لائنز، انسانی روابط اور تعلیمی تعاون کے ذریعے جوڑنے کے وژن پر کام کر رہا ہے۔ سفیر نے کہا کہ ایران سے متعلق جاری مذاکرات میں اس وقت سب سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، جو مذاکرات کے آغاز میں سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ مذاکرات انتہائی خفیہ نوعیت کے ہیں اس لیے تمام تفصیلات سامنے نہیں آ رہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی بحالی اب سب سے اہم موضوع بن چکی ہے۔