سڈنی واقعہ پر پاکستان کیخلاف منظم ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا پھیلایا گیا عطاء تارڑ

 واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی،شواہد سے یہ بات واضح ہو چکی ملوث عناصر کا تعلق بھارت سے تھا‘پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے 
عالمی میڈیا   ایسے حساس معاملات میں ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ د ے، کسی بھی ملک کو بغیر ثبوت کے مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے:وفاقی وزیر اطلاعات کی غیرملکی میڈیا سے گفتگو
اسلا  م آباد (آئی ا ین پی )وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے  آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف منظم انداز میں ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا پھیلایا گیا،اس س واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ حکومت پاکستان نے ابتدا ہی سے اس افسوسناک واقعے کی واضح طور پر مذمت کی ہے۔ بدھ کو غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے  کہاکہ صدر مملکت اور وزیراعظم نے بھی سڈنی فائرنگ کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین سے ہمدردی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے کیونکہ پاکستان خود طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس کے عوام اور سیکیورٹی اداروں نے اس جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔وزیر اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو وہ ویڈیوز بھی دکھائیں جن میں پاکستان کے خلاف چلائی گئی منفی مہم کو واضح کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سڈنی کے بونڈائی واقعے سے پہلے ملزمان نے فلپائن کا بھی سفر کیا تھا، لیکن اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کر دئیے گئے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایک جھوٹا بیانیہ گھڑا گیا، جسے بعض بین الاقوامی اور معروف میڈیا اداروں نے بھی بغیر تصدیق کے آگے بڑھایا۔