پاکستان کی پبلک سیکٹر کمپنیوں نے گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 102 ارب روپے کا منافع کمایا، جس میں ایس آئی ایف سی کی معاونت نے اہم کردار ادا کیا۔
ان سات کمپنیوں کا 249 ارب روپے کا منافع سوورن ویلتھ فنڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے، جو ملک کی معیشت کی استحکام اور ترقی کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں سرکاری اداروں کی آمدن میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 7 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔ ان اداروں میں مختلف کمپنیوں کا منافع قابل ذکر رہا۔ او جی ڈی سی ایل نے سب سے زیادہ 123.3 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا۔ اس کے بعد پاکستان پیٹرولیم کا منافع 68.8 ارب روپے، پاور سیکٹر کا منافع 50.7 ارب روپے رہا۔
اسی طرح نیشنل پاور پارکس کا منافع 36.3 ارب روپے، پاک عرب ریفائنری کا 35 ارب روپے تک ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے علاوہ لاہور الیکٹرک، نیشنل بینک، واپڈا اور پورٹ قاسم جیسے اداروں میں بھی نمایاں منافع ریکارڈ ہوا۔ایس آئی ایف سی کی مسلسل جدوجہد اور ان کمپنیوں کی کارکردگی کے باعث معیشت کے استحکام اور روشن مستقبل کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جو ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک اچھا پیش خیمہ ہے۔