جنرل باجوہ اور فیض حمید کے دور میں مجھ پر بدترین تشدد کیا گیا،میاں جاوید لطیف

 آوازیں سننے کیلئے دبائو ڈالا جاتا تھا، مشکلات کے باوجود اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹا 
شیخوپورہ(آئی این پی)مسلم لیگ (ن ) کے مرکزی سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے ہے کہ جنرل (ر)  قمر جاوید باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید کے دور میں انہیں غداری کے مقدمے میں گرفتار کروا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کے دوران انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت دی جاتی تھی اور کہا جاتا تھا کہ تمہاری آوازیں فیض حمید اور عمران خان سننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ایک سوچ اور نظریے پر کھڑے رہنے کی کوشش کی اور اللہ تعالی نے مجھے اس کی توفیق عطا فرمائی، میری والدہ کی حمایت اور دعائوں کی بدولت آج تک اپنے موقف پر ثابت قدم ہوں۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے اپنے سیاسی سفر اور مشکل ترین حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ان پر تشدد کیا جاتا تھا تو وہ دل ہی دل میں اللہ تعالی سے دعا کرتے تھے کہ یااللہ مجھے اتنی ہمت اور حوصلہ عطا فرما کہ میرے منہ سے چیخ تک نہ نکلے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے انہیں اس کڑے وقت سے گزرنے کا حوصلہ دیا اور وہ تمام مشکلات کے باوجود اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ رہائی کے بعد متعدد سینئر صحافیوں اور دوستوں نے انہیں بتایا کہ جنرل باجوہ نے ایک میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ جاوید لطیف باز نہیں آ رہا۔ ان کے بقول انہیں مختلف ذرائع اور دوستوں کے ذریعے ایسے پیغامات بھی موصول ہوتے رہے جن میں خبردار کیا جاتا تھا کہ آج کل سڑکوں پر حادثات بھی بہت ہو رہے ہیں۔ تاہم انہیں براہ راست کسی کی کال موصول نہیں ہوئی بلکہ بعض دوستوں کے ذریعے اس نوعیت کے پیغامات پہنچائے جاتے تھے ۔میاں جاوید لطیف نے عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے اپنے موقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں جب وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو آگاہ کیا کہ کابینہ میں بعض لوگ میاں جاوید لطیف کی شمولیت کو پسند نہیں کریں گے اور وہ نہیں چاہتے کہ وہ کابینہ کا حصہ بنیں تو میاں نواز شریف نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر جاوید لطیف کابینہ کا حصہ نہیں ہوگا تو پھر کابینہ بھی نہیں بنے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے ان واقعات کو اپنی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات، دبا ئواور دھمکیوں کے باوجود اپنے نظریے اور سیاسی موقف پر قائم رہنے کی کوشش کی۔