یونا ن حادثہ:39پاکستانیوں کے زندہ رہنے کی امید ختم کشی پرزیادہ افراد سوار‘ انجن خراب تھا‘بحری جہاز سے ٹکرا کر الٹ گئی:بچنے والوں نے داستان سنا دی

 ڈیڑھ سے دو ماہ ہمیں ایجنٹوں نے لیبیا میں رکھا ‘ 11 دسمبر کو لیبیا سے  کشتی روانہ ہوئی تھی‘ سمندری لہریں بہت تیز تھیں جس کی وجہ سے ہمیں 3 سے 4 دن سمندر میں گزارنا پڑے:متاثرین
پہلی کشتی میں سوارپاکستانی لڑکے سمیت تمام افرادکوبچالیاگیا، دوسری  میں بھی 5  پاکستانیوں سمیت 47 افراد  کو بچالیا گیا 
 تیسری کشتی کے سوار لاپتہ ہیں:پاکستانی سفارتخانے کی رپورٹ

ایتھنز،اسلام آباد (آئی این پی )ایتھنز میں پاکستانی سفارت خانے نے یونان کی سمندری حدود میں تارکین وطن کی کشتیوں کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت پاکستان کو بھجوائی ۔تفصیل کے  مطابق یونان  میں  تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی  ہلاکتوں سے متعلق پاکستانی سفارت خانے نے اپنی رپورٹ حکومت کو بھجوادی۔ ایتھنز میں پاکستانی سفارت خانے نے یونان کی سمندری حدود میں تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت پاکستان کو بھجوائی۔رپورٹ کے مطابق یونان کی سمندری حدود میں 3 کشتیوں کو حادثہ پیش آیا، تینوں کشتیاں لیبیا کے علاقے تبروک سے روانہ ہوئی تھیں، ایک کشتی میں 6 پاکستانیوں سمیت 45 افراد سوار تھے، پہلی کشتی میں سوارپاکستانی لڑکے سمیت تمام افرادکوبچالیاگیا، دوسری کشتی میں 5 پاکستانیوں سمیت 47 افراد سوار تھے اور ان تمام افراد کو بھی بچا لیا گیا۔  رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیسری کشتی میں 83 افراد سوار تھے جن میں 76 پاکستانی، 3 بنگلا دیشی، 2 مصری اور 2 سوڈانی ڈرائیور شامل تھے، کشتی کے 39 افراد کو ریسکیو کیا گیا جن میں 36 پاکستانی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق تیسری کشتی میں سوار 39 افراد تاحال لاپتا ہیں‘یونان  میں پاکستانی سفیر عامر آفتاب نے تصدیق کی ہے کہ کشتی حادثے میں ڈوبنے والے درجنوں پاکستانی تاحال لاپتہ  ہیں جن کے زندہ بچنے کی امیدیں  دم توڑ گئی ہیں ۔پاکستانی  سفیر عامر آفتاب نے پریس کانفرنس  کے دوران  بتایا کہ کشتی حادثے میں جاں بحق پاکستانیوں کی لاشیں سفارت خانہ اپنے اخراجات پر پاکستان روانہ کرے گا۔ کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے گجرات کے 2 بھائیوں نے نے اپنی درد بھری کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ کارگو بحری جہاز سے ہماری کشتی کی ٹکر ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں کشتی الٹ گئی۔ حادثے کا شکار ہونیو الی کشتی کا انجن ٹھیک نہیں تھا اور اس کی حالت بھی اچھی نہیں تھی۔ متاثرہ نوجوان نے روداد سناتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سے دو ماہ ہمیں ایجنٹوں نے لیبیا میں رکھا اور پھر 11 دسمبر کو لیبیا سے ہماری کشتی روانہ ہوئی تھی سمندری لہریں بہت تیز تھیں جس کی وجہ سے ہمیں 3 سے 4 دن سمندر میں گزارنے پڑے اور جب ہم لیبیا سے اٹلی کی ڈنکی لگارہے تھے تو یونان کے قریب ہماری کشتی کی ٹکر کارگو بحری جہاز سے ہوئی جس کے باعث کشتی الٹ گئی۔نوجوان نے بتایا کہ اللہ کے توکل سے آج سانسیں چل رہی ہیں حادثے کے بعد ہمیں سمندر سے ریسکیو کر کے یونان کیمپ بھیج دیا گیا ہے یونان میں مقیم پاکستانیوں نے کپڑے اور جوتے مہیا کیے ہیں لیکن پاکستانی سفارتحانہ کوئی بھی مدد نہیں کررہا۔متاثرہ نوجوان نے کہا کہ پاکستان میں مشکل حالات کے باعث ملک چھوڑا اور مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے ہی باہر جانے کا فیصلہ کیا مگر یہاں بھی مشکلات سے دوچار ہو گئے۔ متاثرین نے انکشاف کیا کہ جس کشتی پر سوار تھے اس کا نہ انجن ٹھیک تھا، نہ واکی ٹاکی اور نہ ہی ڈرائیور ٹھیک تھا، حادثے کے بعد کارگو شپ نے ہمیں بچایا، ہمارے کپڑے، موبائل اور جوتے سب وہاں رہ گئے، اب ہمارے پاس کپڑے ہیں اور نہ ہی جوتے۔ متاثرین نے بتایا کہ ہم اس وقت یونان کے کیمپ میں مقیم ہیں، پاکستان سے لیبیا پہنچے تھے وہاں ڈیڑھ دو ماہ بہت مشکل میں گزارے اور لیبیامیں ڈیڑھ دو مہینیرہے، وہاں سے 11 دسمبرکو شپ نکلی تھی