ماسکو: یوکرین نے گزشتہ تین روز کے دوران روس کے خلاف ایک ہزار سے زائد ڈرون حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
روسی دارالحکومت ماسکو بھی مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ روز یوکرین کی جانب سے ماسکو پر 620 ڈرونز داغے گئے، جن کے نتیجے میں ایک 10 سالہ بچی سمیت 3 افراد زخمی ہوئے۔حملوں میں روسی ای کامرس کمپنی کے گوداموں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس سے قبل، دو روز قبل، یوکرین نے روس کے مختلف شہروں پر 800 سے زائد ڈرونز سے حملہ کیا تھا، جس میں 7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ قرار دیا جا رہا ہے، اور اس نے جنگ کے دوران دونوں طرف کی شدت اور خطرناک صورتحال کو ظاہر کیا ہے۔
دوسری طرف، روس نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ڈرونز کی فراہمی روک دے، کیونکہ روس کا الزام ہے کہ برطانوی ساختہ ڈرونز روسی فوجی اور صنعتی تنصیبات پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ روسی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جنگ میں مزید شمولیت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔برطانوی وزارت دفاع نے روس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی اور روس کے خلاف یوکرین کی حمایت جاری رہے گی۔