عمان راستے میں نہ آئے ورنہ شدید بمباری کرینگے‘ایران ہتھیار ڈال کر سفید جھنڈا لہرا دے ڈونلڈ ٹرمپ

 جنگ میں امریکہ کے مونگ پھلی کے دانے جتنے ہتھیار استعمال ہوئے ہیں، ایران کے معاملے میں کوئی مقررہ ٹائم ٹیبل نہیں ‘ جلد بازی میں  نہیں ہیں‘  بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے:امریکی صدر
معاہدے کی خلاف ورزی پر  60 روزہ مذاکراتی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت  نہیں رہی،  ایران پر کسی مخصوص مدت میں فیصلہ کرنے کیلئے  دبائو  نہیں ڈالا جاسکتا‘پاکستان اورقطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں :ایرانی وزارت خارجہ
واشنگٹن‘تہران(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت کی 60 روزہ میعاد ختم ہونے پر پالیسی بیان جاری کیا۔فوکس نیوز کے صحافی ٹری ینگسٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا  اگر عمان نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو امریکا عمان پر شدید بمباری کرسکتا ہے۔ انہوںنے ایران سے ایک بار پھر ہتھیار ڈال کر امن کی علامت سفید جھنڈا لہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا  ایرانی قیادت اچھے پوکر کھلاڑی ہیں تاہم ان کے بقول ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے پر صدر ٹرمپ نے کہا  ایران کے معاملے میں کوئی مقررہ ٹائم ٹیبل نہیں اور وہ جلد بازی میں بھی نہیں ہیں البتہ بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران جنگ میں پیٹریاٹ میزائل اور ٹوما ہاکس جیسے جدید ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ختم ہوجانے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کے صرف مونگ پھلی کے دانے جتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے۔ دریں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا ہے مفاہمتی یادداشت میں باقاعدہ طور پر 60 روزہ ڈیڈ لائن کی کوئی شق موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق ایران اپنی پالیسیاں کسی دبائو، دھمکی، الٹی میٹم یا مقررہ مدت کی بنیاد پر طے نہیں کرتا۔اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ 18 جون کی مفاہمتی یادداشت میں دو اہم معاملات پر مذاکرات کے لیے تقریبا 60 دن کا عرصہ زیر غور آیا تھا۔ ان میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور جوہری معاملہ شامل تھا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق اگر اس مدت کے دوران کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پاتا تو مذاکراتی مدت میں توسیع بھی ممکن تھی۔   اسماعیل بقائی نے کہا ایران کی ثابت قدمی نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا،ایران پاکستان اور قطر کیساتھ رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے،پاکستان اورقطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں