زرعی بحران ، کسان اتحاد کا ناقص پالیسیوں پر احتجاج

کپاس کی پیداوار نصف سے بھی کم، کسانوں کو گندم میں 22 سو ارب نقصان
 لاہور/ملتان ( کرائم رپورٹر) مرکزی صدر کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ملکی معیشت پر بات کرنے کو تیار نہیں، زراعت مکمل طور پر زبوں حالی کا شکار ہے، سب کو ملک کے مستقبل کے لیے سوچنا ہوگا۔ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کا نقصان آنے والی نسلوں کو ہوگا، کسان اتحاد زرعی پالیسیوں سے شدید ناراض ہے۔ ڈیمز نہیں بنائے گئے اور سمارٹ ایریگیشن کو فروغ نہیں دیا گیا، نتیجہ یہ ہے کہ زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کپاس کی کاشت 60 لاکھ ایکڑ سے کم ہو کر 28 لاکھ ایکڑ رہ گئی ہے جبکہ پیداوار ڈیڑھ کروڑ گانٹھ سے کم ہو کر صرف 52 لاکھ گانٹھ رہ گئی ہے۔ کسان کو پیکج نہیں بلکہ فصلوں کا مناسب ریٹ چاہئے۔خالد محمود کھوکھر نے بتایا کہ صرف گندم کی فصل میں گزشتہ دو برسوں میں کسانوں کو 22 سو ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ کسان نے گندم 1900 روپے من کے حساب سے بیچی، آج وہی گندم لوگ 2800 روپے میں خرید رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جعلی پیسٹی سائیڈز کے خلاف قانون سازی کے لیے کسان اتحاد نے کام کیا اور ہماری کوششوں سے نیشنل سیڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہوئی۔