14اپریل تک گندم کی قیمت مقرر ورنہ خواتین اور بچوں کیساتھ احتجاج کرینگے کسان اتحاد

جو مراعات ایم این اے کی ہیں وہ کسان کو ملنی چاہئیں لیکن کاشتکار کی پیداواری لاگت نہیں مل رہی،بجلی اور کھادوں کا نرخ قوت خرید سے باہر ہوگیا 
 اڑھائی کروڑ ایکڑ پر گندم کاشت ہے‘  حکومت فیصلہ کرے  ایک سال روٹی اور آٹے کا ریٹ طے نہیں کرینگے :چیئرمین کسان اتحاد خالد کھوکھر 

   ملتان(بیورو رپورٹ ) کسان اتحاد نے حکومت کو خبردار کیا گیا ہے  14اپریل تک  اگر  گندم کا نرخ طے  نہ کئے گئے  تو   خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں احتجاج  کیا جائیگا۔  چیئرمین کسان اتحاد خالد کھوکھر نے پریس کانفرنس میں کہا  اڑھائی کروڑ ایکڑ پر گندم کاشت ہے لیکن آج گندم کا کاشتکار شدید پریشان ہے اور اس کو لگ رہا ہے کہ بچوں کو علاج اور اسکول کی سہولتیں نہیں ملیں گی۔خالد کھوکھر نے کہا کہ جو مراعات ایم این اے کی ہیں وہ کسان کو ملنی چاہئیں لیکن کاشتکار کی پیداواری لاگت نہیں مل رہی، ہماری بجلی اور کھادوں کا نرخ قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے، کاشتکار اپنے زیور فروخت کر کے زرعی دوائیں خریدتا ہے، آج اخراجات 3400 روپے اور گندم کا ریٹ 2200 مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسان کو گندم کا ریٹ صحیح ملا تو 6.5 گروتھ دی، آج مکئی چاول اور دیگر اجناس کی امپورٹ بڑھ گئی ہے، زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمیں امپورٹ کرنا پڑتی ہیں، آج ہم سارے بیج باہر سے منگواتے ہیں، گندم ہاوریسٹنگ کیلئے تیار ہیں لیکن نرخ کا پتا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا اور صوبہ بندی اور ضلع بندی ختم کر دی، حکومت فیصلہ کرے کے ایک سال روٹی اور آٹے کا ریٹ طے نہیں کریں گے۔چیئرمین کسان اتحاد نے مزید کہا کہ 30 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ ہیں جس میں زراعت کا بڑا حصہ ہے، آٹے کا ریٹ طے ہے لیکن چینی کا ریٹ طے نہیں ہے، چینی کا ریٹ 60 روپے تک بڑھا دیا گیا آٹا کے ریٹ کیوں نہیں بڑھا رہے؟