ویب ڈیسک: ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں جانی و مالی نقصانات سامنے آئے ہیں، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید تیز بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں مزید بارش متوقع ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے میدانی اور پہاڑی علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وادی تیراہ میں برساتی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا۔ بارش کے باعث متاثر ہونے والی پاک افغان شاہراہ فرنٹیئر روڈ کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔کراچی میں بھی رات کے وقت مختلف علاقوں میں ہلکی بوندا باندی ہوئی جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔
نوشہرہ میں المناک حادثہ
نوشہرہ میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 29 سالہ اسد عمر اور 24 سالہ ان کی اہلیہ کے نام سے ہوئی ہے۔ لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سیاحتی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
ایبٹ آباد، گلیات اور ٹھنڈیانی میں گہرے بادل چھا گئے ہیں جبکہ محکمہ موسمیات نے تیز بارشوں کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ سیاحتی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
دریاؤں میں پانی کی سطح بلند
دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بورے والا میں طغیانی کے باعث بند ٹوٹ گیا جس سے سیکڑوں بستیاں پانی کی لپیٹ میں آ گئیں۔ اسی طرح پاکپتن کے قریب دریائے ستلج میں پانی کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے۔قصور کے قریب گنڈا سنگھ کے مقام پر 80 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے جس کے باعث نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
بستیاں زیر آب، نقل مکانی شروع
قبولہ کے قریب دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے کے بعد متعدد بستیاں زیر آب آ گئیں۔ ریسکیو 1122 نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ دریائی کنارے پر کاشت وسیع رقبے کی فصلیں بھی سیلابی پانی میں ڈوب گئیں۔ متاثرہ علاقوں سے مکینوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔