پاکستانی خواتین تمام نسلی گروپوں کے مقابلے میں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں
جنس کی بنیاد پر تنخواہوں کا فرق ، پاکستانی خواتین مردوں سے 60 فیصد کم کماتی ہیں
اسلام آباد (آئی این پی ) لندن میں مقیم پاکستانی خواتین اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں حاصل کرنے میں تمام نسلی گروپوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں، حالانکہ ان کی تعلیم کی سطح بلند ہے۔یہ انکشاف گریٹر لندن اتھارٹی (جی ایل اے) کی جانب سے جاری ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ میڈیارپورٹ کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ بعنوان بنگلادیشی اینڈ پاکستانی ویمن ان گڈ ورک میں کہا گیا ہے کہ ان برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو تعصب، ساختی عدم مساوات اور غیر لچکدار دفاتر کی وجہ سے بامعنی روزگار سے غیر متناسب طور پر محروم رکھا جا رہا ہے۔اعداد و شمار ایک مایوس کن تصویر پیش کرتے ہیں، 2022 میں لندن میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی خواتین میں سے تقریبا نصف (48.1 فیصد) معاشی طور پر غیر فعال تھیں، جبکہ اسی پس منظر سے تعلق رکھنے والے مردوں میں یہ شرح صرف 15.3 فیصد تھی، ان خواتین کی بے روزگاری کی شرح 16.9 فیصد تھی، جو مردوں کی شرح 5.5 فیصد سے تین گنا زیادہ ہے، سب سے تشویشناک پہلو جنس کی بنیاد پر تنخواہوں کا فرق ہے، لندن میں پاکستانی خواتین اوسطا مردوں سے 60 فیصد کم کماتی ہیں، جو کسی بھی نسلی گروپ میں سب سے زیادہ فرق ہے۔لندن کی نائب میئر برائے کمیونٹیز اور سماجی انصاف ڈاکٹر ڈیبی ویکس-برنارڈ نے ان نتائج کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ تجربہ کار پاکستانی اور بنگلہ دیشی خواتین کو اب بھی ترقی سے محروم رکھا جاتا ہے یا پھر انہیں انٹرویو حاصل کرنے کے لیے اپنے نام تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، یہ کہانیاں ان خواتین کی مزاحمت اور حوصلہ ظاہر کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی ان رکاوٹوں کو توڑنے کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہیں جو انہیں پیچھے رکھتی ہیں۔رپورٹ میں 32 خواتین کے انٹرویوز شامل ہیں جنہوں نے اپنی مایوسی لیکن ساتھ ہی اپنے عزم کا بھی اظہار کیا۔خدیجہ نامی 30 سے 35 سالہ ایک برطانوی پاکستانی خاتون وکیل نے بتایا کہ انہیں قانونی پیشہ کورس کے اخراجات کے لیے کس مالی مشکل کا سامنا کرنا پڑا،اب ایل پی سی کا خرچہ 14 ہزار پانڈ ہے، میں نے اس کے لیے بڑی محنت سے پیسے جمع کیے، جب میں نے بتایا کہ میرے والد ٹیکسی ڈرائیور ہیں تو وہ بس مجھے حیرانی سے دیکھنے لگے، دوسروں کے لیے یہ آسان تھا کیونکہ ان کے والدین خرچ ادا کر دیتے تھے۔ایک اور برطانوی بنگلہ دیشی کمیونٹی ورکر فرزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک عہدہ خالی ہوا, میرے ساتھی کو نہیں دیا گیا حالانکہ اس کے پاس 10 سال سے زیادہ کا تجربہ تھا، اس کے بجائے انہوں نے ایک سفید فام خاتون کو یہ عہدہ دیا جو ٹیم کو سنبھال بھی نہیں سکیں، ایک شریک خاتون نے کہا کہ ہم اہل ہیں، ہم قابل ہیں، لیکن ہم اعلی عہدوں پر نظر ہی نہیں آتیں، ایسا لگتا ہے کہ ہمارے لئے شیشے کی چھت اور بھی موٹی ہے۔