روس کے خلاف امریکی پابندیوں کا بل ٹرمپ کی منظوری کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گیا

روس کے خلاف امریکی پابندیوں کا بل ٹرمپ کی منظوری کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گیا

واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے روس اور ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے متعلق اہم بل منظور کرلیا، جس کے بعد قانون سازی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئی ہے۔

بل کے حق میں 262 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 159 ارکان نے مخالفت کی۔’’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘‘ نامی اس قانون کا نام آنجہانی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ بل اس سے قبل 7 اگست کو امریکی سینیٹ سے بھی 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور ہوچکا ہے۔مجوزہ قانون کے تحت روس کے خلاف بنیادی اور ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش ہوگی۔ ان پابندیوں کا دائرہ روسی حکام، امیر شخصیات، ان کے اہلخانہ، روسی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے علاوہ یوکرین جنگ میں روس کی معاونت کرنے والے بعض غیر ملکی افراد اور اداروں تک بڑھایا جاسکے گا۔بل میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ ساتھ پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے ٹینکرز کو بھی نشانہ بنانے کی شق شامل ہے۔قانون سازی کے تحت امریکی صدر کو ان ممالک پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار بھی دیا جاسکتا ہے جو بڑی مقدار میں روسی تیل یا گیس خریدتے ہیں یا روس کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ قانون میں بعض ممالک کے لیے استثنیٰ کی شرائط بھی شامل کی گئی ہیں۔

بل میں ایران سے متعلق پابندیوں کے نفاذ کو مزید پانچ سال تک توسیع دینے کی شق بھی شامل ہے۔بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل محدود کرنا اور ماسکو پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے۔ دوسری جانب بعض ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کو دیے جانے والے وسیع اختیارات اور ممکنہ معاشی اثرات، خصوصاً اتحادی ممالک پر پڑنے والے اثرات، پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد اب بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے۔ دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔