واشنگٹن: امریکا کے سابق صدور باراک اوباما اور بل کلنٹن نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش اور سونے کی سجاوٹ پر طنزیہ تنقید کرتے ہوئے اسے بھڑکیلے ریسٹورنٹ اور مشہور موسیقار کے چمکیلے باتھ روم سے تشبیہ دے دی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صدر باراک اوباما نے انتخابی مہم کے سلسلے میں ریاست اوہائیو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں جاری تعمیراتی اور آرائشی تبدیلیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش میں اس قدر مصروف ہیں کہ انہیں گھر کی سجاوٹ کے کسی ٹیلی ویژن پروگرام میں ہونا چاہیے۔باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکی صدر وائٹ ہاؤس میں ایک بہت بڑا بال روم تعمیر کروا رہے ہیں، روز گارڈن کی سابقہ شکل تبدیل کرکے وہاں پختہ جگہ بنائی گئی ہے جبکہ ساؤتھ لان میں ہیلی کاپٹر کے لیے پیڈ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ہر طرف سونا ہی سونا نظر آتا ہے۔اوباما نے اپنے خطاب میں ٹرمپ کی سونے سے مزین سجاوٹ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس کو ایسا بنا دیا ہے جیسے سابق عراقی صدر صدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کے نام سے کوئی ریسٹورنٹ کھول لیا ہو۔
سابق امریکی صدر نے اس موقع پر مہنگائی اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوام کے بڑھتے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر توجہ دینی چاہیے، لیکن صدر ٹرمپ کی توجہ دیگر معاملات اور وائٹ ہاؤس کی آرائش پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔دوسری جانب سابق صدر بل کلنٹن نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کی جانے والی تبدیلیوں پر طنز کیا۔ فلوریڈا میں ڈیموکریٹک امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کو روز گارڈن کی تبدیلی پر اعتراض کرنا چاہیے تھا، کیونکہ اب یہ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے معروف موسیقار لیبراچی کے باتھ روم کا داخلی راستہ ہو۔بل کلنٹن کا یہ بیان بھی حاضرین میں خاصی توجہ کا مرکز بنا۔
انہوں نے ٹرمپ کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ثقافتی اور سیاسی تنازعات کے بجائے عوام کو درپیش معاشی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ادھر سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی اس سے قبل اوول آفس میں سونے کی اشیا اور آرائشی سامان کے بے تحاشا استعمال پر تنقید کر چکی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ سجاوٹ صدر ٹرمپ کی خودنمائی اور شاہانہ طرزِ آرائش کی عکاسی کرتی ہے۔