سول ایوارڈز کو صرف آئینی ترمیم کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا لاہور ہائی کورٹ

 ایوارڈ کیلئے سرکاری ملازمت کی انجام دہی کافی نہیں بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی اور مقررہ ذمہ داریوں سے بڑھ کر انجام دی گئی خدمات کو بھی دیکھا جاتا ہے:جسٹس احمد ندیم
لاہور(آئی این پی ) لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کو سول ایوارڈ دینے کے خلاف درخواست خارج کر دی۔ جسٹس احمد ندیم ارشد نے قرار دیا کہ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو آئینی طور پر سول ایوارڈ کیلئے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین، پبلک آفس ہولڈرز سمیت دیگر افراد کو پبلک سروس کے شعبے میں سول ایوارڈز دینے کے خلاف درخواست خارج کر دی، جسٹس احمد ندیم ارشد نے درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 259(2) میں پبلک سروس کو صرف بلا معاوضہ یا رضاکارانہ خدمات تک محدود نہیں کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو محض اس بنیاد پر آئینی طور پر سول ایوارڈ کیلئے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا، کسی شخص کا سرکاری عہدے پر فائز ہونا یا سرکاری ملازمت کرنا بذاتِ خود اسے سول ایوارڈ کا حقدار بھی نہیں بناتا، تاہم غیر معمولی عوامی خدمت انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو صرف تنخواہ لینے کی بنیاد پر ایوارڈ کے دائرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان میں سول ایوارڈز کیلئے پبلک سروس ایک الگ شعبہ ہے اور اس شعبے کیلئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو متعلقہ نامزدگی کا ادارہ مقرر کیا گیا ہے، سول ایوارڈز کیلئے سکروٹنی کمیٹیاں، ایوارڈ ریکمنڈنگ کمیٹیاں اور مین ایوارڈز کمیٹی مقررہ طریقہ کار کے تحت کام کرتی ہیں۔عدالت کے مطابق پبلک سروس کے ایوارڈ کیلئے صرف معمول کی سرکاری ملازمت کی انجام دہی کافی نہیں بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی اور مقررہ ذمہ داریوں سے بڑھ کر انجام دی گئی خدمات کو بھی دیکھا جاتا ہے