سویلین کا ملٹری ٹرائل غلط استعمال پر قانون کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا آئینی بینچ

ہوسکتا ہے مجھے 7 فروری کو رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس میں گرفتار کرکے ملٹری کورٹ لے جایا جائے:وکیل سلمان اکرم راجہ
 فتوے دینے والے وہیں رہتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں:جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس‘کیس کی سماعت پیر تک ملتوی
اسلام آباد (آئی این پی ) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ قانون کو اس کے غلط استعمال پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، اگر ایک جرم فوجی کرے اور وہی جرم عام آدمی کرے تو ٹرائل الگ جگہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متلعق انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔دوران سماعت سزا یافتہ ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایف بی علی کیس میں انیس سو باسٹھ کے آئین کے مطابق فیصلہ ہوا۔جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟ کوئی شخص جو فوج کا حصہ نہ ہو، صرف جرم کی بنیاد پر فوجی عدالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔سلمان اکرم راجا نے موقف اپنایا کہا جاتا ہے آرمی ایکٹ میں سویلین سے متعلق دفعات دہشت گردوں کے لیے ہیں، دراصل یہ دفعات حکومت اپنے مخالفین پر لگا رہی ہے، مجھ پر بھی ایف آئی آر ہے کہ 26 نومبر کو 3 رینجر اہلکاروں کو قتل کیا، الزام لگایا گیا ہے کہ میں نے ہی قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ مجھے کہا جا رہا ہے عدالتوں میں اور ٹی وی پر بولنابند کر دو، مجھے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں رینجر اہلکاروں کے قتل پر ملٹری کورٹس لے جائیں گے، ہو سکتا ہے مجھے 7 فروری کو اسی کیس میں گرفتار کر لیا جائے، عدالت ان دفعات کو بحال کرتی ہے تو ان کا ایسا ہی استعمال ہو گا۔