نئی دہلی (آئی این پی )بھارت کی سپریم کورٹ نے متنازع نئے قانون کی اہم دفعات کو معطل کر دیا ہے، جو اس بات میں تبدیلی کرتا ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے عطیہ کی گئی جائیدادیں کس طرح ملکیت اور انتظام میں رکھی جائیں گی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اور اسے مسلمانوں کی حق تلفی قرار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مذہبی اوقاف کا انتظام خود کریں، جو عموما مدارس یا مساجد کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کا موقف ہے کہ اس سے ان جائیدادوں کے انتظام میں زیادہ شفافیت آئے گی۔اسلامی روایت میں، وقف ایک ایسا خیراتی یا مذہبی عطیہ ہے جو مسلمان کمیونٹی کی بھلائی کے لئے کرتے ہیں، اربوں ڈالر تک کی مالیت کی جائیدادیں بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے لئے نہایت اہم ہیں، کیوں کہ یہ مساجد، مدارس، قبرستانوں اور یتیم خانوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور انہیں کسی اور مقصد کے لیے بیچا نہیں جا سکتا