پنجاب میں دفعہ 144 نافذ احتجاج، جلسے جلوسوں پر پابندی
عمران خان کے ایکس اکائونٹ پر 400 لاشوں کے جھوٹ پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ ،انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنیکی سفارش کا فیصلہ، پوسٹرز، بینرز ،اشتہارات پر پابندی،اشتعال انگیزی پر فوری گرفتاری :پنجاب حکومت
انتہا پسند قیادت فورتھ شیڈول میں شامل، جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کئے جائیں گے،سوشل میڈیا اکائونٹس بند،بینک اکائونٹس منجمد کئے جائینگے ، دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا
لاہور( کرائم رپورٹر)حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں کل ہفتہ تک دفعہ 144 نافذ کر دی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت چار یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ لائوڈ سپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ صوبہ بھر میں اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر بھی پابندی رہے گی۔ دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازہ اور تدفین پر نہیں ہوگا،سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسر و اہلکار پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیرصدارت لااینڈآرڈر اور سکیورٹی صورتحال پر اجلاس ہوا،انہوں نے کہا کہ آج کسی بھی شخص کو ہڑتال کی آڑ میں سڑکوں پر آنے، قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔ شہریوں کی جان و مال، املاک کا تحفظ، قانون کی پاسداری بہرصورت یقینی بنائیں گے، شرپسندوں، بلوائیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان پر غیر معمولی اجلاس میں پنجاب حکومت نیوفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ انتہا پسند جماعت کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ پنجاب میں نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔ پولیس افسروں کی شہادت اور سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے، انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انتہا پسند جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کئے جائیں گے اور نفرت پھیلانے والے انتہا پسند جماعت کے سوشل میڈیا اکائونٹس بند کئے جائیں گے۔ انتہا پسند جماعت کے تمام بینک اکائونٹس منجمد کئے جائیں گیجبکہ لائوڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ترین کارروائی ہوگی۔ پنجاب حکومت غیر قانونی افغان باشندوں کا رئیل ٹائم ڈیٹا تیار کرے گی اور افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں بھی لایا جائے گا، غیر قانونی تارکین وطن کے لئے وسل بلور سسٹم متعارف کرایا جائے گا اور اطلاع دینے والے کا نام مکمل رازداری میں رکھا جائے گا۔ اجلاس میں پنجاب حکومت کا غیر قانونی رہائشیوں اور ان کے کاروباروں کے خلاف کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ،غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جائے۔ مریم نواز نے صوبہ بھرمیں غیر قانونی اسلحہ کی فوری بازیابی کا حکم دیاجس پر ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے غیر قانونی اسلحے کو ایک ماہ میں جمع کروانے کا الٹی میٹم جاری کر دیا گیا، ایک ماہ کے اندر شہری اپنا قانونی اسلحہ کو خدمت مرکز سے رجسٹر ڈ کرائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اسلحہ فروشوں، تمام ڈیلرز کے سٹاک کا معائنہ کرنے اور پنجاب میں نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر مکمل پابندی کا حکم بھی دیا جبکہ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے اسلحہ فیکٹریز اور مینوفیکچررز کو ریگولرائز کرنے کی سفارش کر دی۔ اجلاس میں صوبہ بھر میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا میں اضافہ کی منظوری دے دی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا 14سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر اور ناقابل ضمانت جرم بنا دیا گیا۔مریم نواز کی زیرصدارت ایک دوسرے غیر معمولی اجلاس میں پنجاب حکومت نے احتجاج کے نام پر خون ریزی، شرانگیزی اور فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے خلاف آہنی گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ پنجاب حکومت کا عمران خان کے ایکس اکائونٹ پر 400 لاشوں والے اشتعال انگیز جھوٹے بیان پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ بھی کیاگیا۔پنجاب حکومت نے واضح کر دیا کہ ریاست کا ہدف فساد ہے کوئی مذہبی جماعت یا عقیدہ نہیں، کارروائیاں صرف اْن کے خلاف ہیں جو امن برباد کرنے کی تاریخ کے حامل ہیں۔ مساجد کے منبروں اور مدارس کے فورمز کو نفرت،انتشار یا تشدد کے فروغ کیلئے استعمال کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہونگے،مدارس کے تقدس کو مجروح کرنے اور بچوں کے ذہنوں میں نفرت یا تشدد کے بیج بونے والوں کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔پنجاب حکومت نے احتجاج کے دوران کیلوں والے ڈنڈوں،پٹرول بم اور ہر قسم کے اسلحہ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی جبکہ انتہا پسند جتھوں کے سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کیاگیا۔ بازار، دکانیں یا ٹرانسپورٹ زبردستی بند کرانے والوں پر دہشتگردی ایکٹ لاگو ہوگا۔سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہونگے،اس حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی اپنائی جائے گی۔اجلاس میں انتہا پسند گروہوں کی ہر غیر قانونی سرگرمی پر مکمل پابندی عائدکی گئی جبکہ سکیورٹی اداروں کو فوری ایکشن کے اختیارات تفویض کئے گئے۔ٹی ایل پی کی جانب سے کریک ڈائون اور ریاستی ایکشن کیخلاف آج دی گئی ملک گیر ہڑتال کی کال کو مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی، تاجر برادری، چیمبرز ایسوسی ایشنز نے مسترد کردیا ا ورتحریکِ لبیک کی پرتشدد کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پرتشدد مظاہروں اور غیر ضروری ہڑتالوں کو غیر مناسب قرار دے دیا۔تاجر رہنمائوں، علمائے کرام اور مختلف اہم شخصیات نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کیلئے وقت اور مقام کا چنائو انتہائی نامناسب ہے، مطالبات غیر ضروری اور طرزِ احتجاج ناقابلِ قبول ہے۔تاجر رہنما عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ جلائو گھیرائو عوام دشمن عمل ہے، ملک کی تاجر برادری کسی ہڑتال کا حصہ نہیں بنے گی۔عمر بٹ نے کہا کہ کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ حافظ امیر حمزہ رافع نے کہا کہ غزہ میں امن قائم ہوچکا ، ایسے میں ٹی ایل پی کا احتجاج غیر موزوں ہے۔معروف عالم دین مولانا عبدالمنان نے کہا کہ ٹی ایل پی کی محاذ آرائی ملک کیلئے نقصان دہ اور غیر مناسب ہے۔رمضان پیرزادہ نے کہا کہ ٹی ایل پی احتجاج ختم کرے تاکہ عوام کی مشکلات کم ہوں۔مولانا حق نواز نے کہا کہ غیر ملکی سازشوں کا شکار بننے والے ہوش کے ناخن لیں۔ضیا الحق قاسم خان بلوچ نے کہا کہ ٹی ایل پی کا احتجاج اور راستے بلاک کرنا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس نے ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد کر دیا، صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ ہڑتال سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، تاجر برادری کاروبار معمول کے مطابق جاری رکھے گی۔