سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران سگریٹ کی قیمت، ٹیکس شرح اور منافع سے متعلق تفصیلی بحث ہوئی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔درخواست گزار کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد زاہد نے اپنے دلائل مکمل کیے، جس کے بعد عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔سماعت کے دوران وکیل اعجاز احمد زاہد نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر میں کل 10 ٹوبیکو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے وکلا نے اپنے دلائل کے دوران ایک ٹیبل پیش کر کے اپنا مؤقف تبدیل کیا۔وکیل کے مطابق ایک سگریٹ کی ڈبی جس کی قیمت 173 روپے ہے، اس پر 44 روپے ٹیکس عائد ہے، جبکہ 77 روپے کی ڈبی پر بھی 44 روپے ٹیکس ہے اور صرف 33 روپے بچت ہوتی ہے۔انہوں نے مؤقف اپنایا کہ موجودہ قانونی نظام کے تحت ان کی کمپنی کے لیے ونڈ فال ٹیکس ادا کرنا ممکن نہیں۔
اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ:“ہم مقدمے کے حقائق میں نہیں جائیں گے، آپ صرف قانونی نکات پر دلائل دیں۔”وکیل نے جواب دیا کہ قیمت میں اضافہ ہونے سے ٹیکس خودبخود بڑھ جائے گا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا:“آپ نے ٹیکس دینا ہے، وہ آپ کے نفع سے ہی ادا ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ:“چھبیسویں ترمیم کے بعد آئینی بینچ تمام آئینی مقدمات دیکھتا ہے، ہم کسی آئینی سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔”
جسٹس حسن اظہر رضوی نے طنزیہ انداز میں ریمارکس دیے کہ:“ویسے آپ کی کمپنی کو داد دینی پڑے گی، اتنے کم مارجن کے باوجود 300 ملین روپے کما رہی ہے، یہ چھوٹے مارجن سے بڑی کامیابی ہے۔”دورانِ سماعت وکیل نے کہا کہ حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ تھا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا:“اگر آپ کی سگریٹ افغانستان برآمد ہوتی ہے تو پھر ذمہ داری کس کی ہوگی؟”وکیل نے جواب دیا کہ اگر کوئی اسمگلنگ کرے تو وہ کمپنی کی ذمہ داری نہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ:“مال ایکسائز افسر کے سامنے باہر جاتا ہے، ممکن ہے کوئی خرید کر اسمگل کرے۔”وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر مالیاتی خسارہ ختم کرنا ہے تو حکومت کو وہاں سے اقدامات کرنے چاہییں جہاں سے لیکیج ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا:“آپ سارا ٹیکس خود نہیں دے رہے، جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہ بھی یہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ آپ صرف انکم ٹیکس دیتے ہیں، جبکہ آپ کے صارفین کی تعداد اچانک نہیں بڑھتی۔”بعد ازاں عدالت نے سماعت پیر کے روز تک ملتوی کر دی۔