دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں غربت آج بھی ایک زندہ حقیقت کے طور پر ہر موڑ، ہر چوراہے، ہر گلی اور ہر بستی میں کسی نہ کسی شکل میں نظر آتی ہے۔ہمارے کروڑوں محنت کشوں کے ہاتھوں کی لکیروں میں پسینہ تو ہے، مگر اُن کے دسترخوان اب بھی خالی ہیں۔تازہ اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح تقریباً 45 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ 39 فیصد تھی۔مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی نے عام آدمی کی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست، سماج اور ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے، کیونکہ تبدیلی صرف نعرے سے نہیں، بلکہ عمل سے آتی ہے۔