گریٹا تھیونبرگ پر اسرائیلی حراست میں تشدد، پنجرے میں گیس بھرنے کی دھمکی

 ہزاروں فلسطینی، جن میں سیکڑوں بچے شامل ہیں، اس وقت بغیر کسی مقدمے کے قید ہیں
 سٹاک ہوم (آئی این پی )نے   سویڈش کی انسانی حقوق کی کارکن گریٹا تھنبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اسرائیلی حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تذلیل کی گئی، اور یہاں تک کہ پنجرے میں گیس بھرنے کی دھمکی دی گئی۔ سوئیڈن کے نیوز آئوٹ لیٹ افٹن بلادیٹ میں شائع ہونے والے   انٹرویو  کے مطابق گریٹا تھنبرگ نے اسرائیلی حراست میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو بیان کیا تحقیر، تشدد کی دھمکیاں، اور جسمانی مارپیٹ۔افٹن بلادیٹ نے لکھا کہ وہ اپنے بارے میں یا اس اذیت کے بارے میں سرخیاں نہیں چاہتیں جس کا وہ کہتی ہیں کہ انہیں سامنا کرنا پڑا، یہ ان کی ابتدائی باتوں میں سے ایک  تھی، جب وہ اپنے ملک واپس آئیں۔سرگیلز ٹورگ میں گلوبل صمود فلوٹیلا میں شریک دیگر سوئیڈش کارکنوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران، گریٹا  نے کہا کہ یہ میرے یا فلوٹیلا کے دیگر افراد کے بارے میں نہیں ہے، ہزاروں فلسطینی، جن میں سیکڑوں بچے شامل ہیں، اس وقت بغیر کسی مقدمے کے قید ہیں، اور ان میں سے کئی پر تشدد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اگر اسرائیل پوری دنیا کی موجودگی میں، ایک مشہور، سفید فام، سوئیڈش پاسپورٹ رکھنے والی شہری کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے، تو ذرا سوچیں کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ بند کمروں میں کیا کرتے ہوں گے۔گریٹا نے کہا کہ فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس اذیت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس کا فلسطینی دہائیوں سے سامنا کر رہے ہیں