حکومت کو فوری ضرورت پڑی تو اس نے سپر ٹیکس لگا دیا ہے، جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس
اسلام آباد (آئی این پی )سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے حکومت کو فوری ضرورت پڑی تو اس نے سپر ٹیکس لگا دیا ہے۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کیس کی سماعت کی، جس میں مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل مکمل کئے ۔ جسٹس امین الدین نے کہا سپر ٹیکس میں مقررہ رقم لکھی ہوئی کہ کتنے پر ٹیکس لگے گا ۔ کمپنیز اپنے اپنے حصے کا ٹیکس دیں گی جو ان پر بنتا ہوگا ۔ آپ جو کہہ رہے اس سے یہ لگ رہا کہ جن پر ٹیکس نہیں لگایا گیا ان پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے ۔ وکیل فروغ نسیم نے جواب میں کہا کہ شاید میں اپنے دلائل ٹھیک سے بریف نہیں کر پایا ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کسی کے ساتھ فرق نہ ہو ۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فائنل ٹیکس رجیم میں جو ٹیکس لگ گیا، اس کے بعد اور نہیں لگ سکتا ۔بعدازاں کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی