برطانوی حکومت مالی بحران سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں چانسلر ریچل ریوز آئندہ بجٹ میں مڈل کلاس گھریلو مالکان پر نیا ٹیکس عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
اس نئے ٹیکس کا مقصد ملک کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنا ہے، اور اس کے تحت 25 ارب پاؤنڈز اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔حکومت ایک نیا ٹیکس پیکیج بھی تیار کر رہی ہے، جس میں 600 ملین پاؤنڈ کا اضافی سرچارج شامل ہوگا۔ یہ ٹیکس اُن گھروں پر لگایا جائے گا جن کی مالیت زیادہ ہے، یعنی وہ خاندان جن کے پاس مہنگی جائیدادیں ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں لاکھوں مڈل کلاس خاندانوں کو مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا، خاص طور پر لندن اور جنوب مشرقی انگلینڈ کے رہائشیوں پر اس کا زیادہ اثر پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ یہاں پراپرٹی کی قیمتیں پہلے ہی بلند ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے رہائشی اخراجات میں اضافہ ہوگا اور مڈل کلاس افراد کو مزید مشکلات کا سامنا ہوگا، خاص طور پر ان حالات میں جب کہ مہنگائی اور دیگر مالی چیلنجز پہلے ہی موجود ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام ناگزیر ہے تاکہ ملک کے مالیاتی خسارے کو کم کیا جا سکے، لیکن ناقدین اسے عوام اور معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔حکومت آئندہ بجٹ میں اس نئے ٹیکس کا باضابطہ اعلان کرے گی، اور دیکھنا یہ ہے کہ عوام اور سیاسی حلقے اس فیصلے پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اقدام ملک کی معاشی حالت میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم، مگر متنازعہ فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔