بانی پی ٹی آئی پر الزامات کی سچائی جاننے کے لیے ٹیسٹ مددگار ثابت ہوگا :تحریری فیصلہ
26 نومبر کو احتجاج پر دو کیسز دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی درخواستیں مسترد
لاہور، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )انسداد دہشتگری عدالت لاہور نے نو مئی لاہور کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پولی گرافک ٹیسٹ کی اجازت دینے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ اے ٹی سی لاہور کے جج منظر علی گل نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے تفتیشی افسر کو 26 مئی تک پولی گرافک ، فوٹو گرامیٹک اور وٹس ایپ میچنگ ٹیسٹ مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ سپرنٹنڈ نٹ اڈیالہ جیل تفتیش متعلقہ ٹیسٹوں کے حوالے سے جیل میں ہی تمام تر انتظامات کرے۔ پولی گرافک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کا فائدہ ملزم اور پراسکیوشن دونوں کو ہو سکتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی پر لگے الزامات کی سچائی جاننے کے لیے یہ ٹیسٹ مددگار ثابت ہوگا۔ یہ ٹیسٹ قابل قدر اور بیکار شواہد کے درمیان فرق کرنے کی مخلصانہ کوشش ہوگی۔ تفتیشی افسر ٹیسٹوں کی روشنی میں ہی درست نتائج تک پہنچے گا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ٹیسٹوں کی درخواست 727 دنوں بعد دائر کی گئی ہے۔ پراسکیوشن کے مطابق، وہ بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ اور پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے متعدد عدالتوں سے رجوع کرتے رہے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل کے مطابق پراسکیوشن نے ٹیسٹوں کے لیے ایک ہی نوعیت کی 12 درخواستیں دائر کیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصرجاوید رانا کی عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کیجانب سے 26 نومبر کو بغیر اجازت وفاقی دارالحکومت میں احتجاج سے متعلق دو کیسز دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی درخواستیں مسترد کردی۔عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد کی عدالت میں زیر سماعت 2 مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا حکم سنادیا اور فیصلہ میں کہاکہ مدعی مقدمہ کے مطابق متعلقہ جج مقدمات غیر ضروری جلد بازی اور قانونی معاملات کا مشاہدہ کئے بغیر کیس چلا رہے ہیں،جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل ہی اب 19 مئی کو سماعت کریں گے۔