یہ افسوسناک واقعہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پیش آیا، جہاں ایک نجی اسکول کے مالک راہول وجے ران (35 سالہ) نے اپنی دو سالہ بیٹی وامیکا کو گود میں اٹھا کر رہائشی عمارت کی 23ویں منزل سے چھلانگ لگا دی۔
دونوں کی فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔رہائشیوں کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح تقریباً ساڑھے 7 بجے پیش آیا، اور اس وقت راہول کی بیوی نیتو دہیا گھر میں کھانا بنا رہی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے کے وقت راہول اپنی بیٹی کو پارک لے کر گیا تھا اور پھر مبینہ طور پر ٹاور 5 کی 23ویں منزل سے چھلانگ لگا دی۔متوفی کے بھائی امیت کے مطابق راہول کی شادی 2014 میں ہوئی تھی اور اس کی ایک 11 سالہ بڑی بیٹی بھی ہے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ راہول کورونا وبا کے دوران ایک آنکھ کی بینائی کھو بیٹھا تھا جبکہ دوسری آنکھ کی نظر کمزور ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھا۔
دہلی پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے کوئی خودکشی نوٹ برآمد نہیں ہوا اور خاندان نے قانونی کارروائی سے انکار کیا۔ تاہم پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ راہول نے اپنی رہائش گاہ کے بجائے دوسرے ٹاور سے چھلانگ کیوں لگائی۔یہ واقعہ ذہنی دباؤ، ذہنی صحت اور خاندان کی مشکلات کی سنگینی کی یاد دہانی کراتا ہے، اور ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں فوری نفسیاتی مدد انتہائی ضروری ہوتی ہے۔