آبنائے ہرمز سے تیل فراہمی،پاکستان کاایران کیساتھ رابطہ

حکام کی رابطے کی تصدیق، ایران کی حمایت پر پاکستان کے شکرگزار:عراقچی
ایران استقامت کیساتھ کھڑا :ایرانی وزیرخارجہ کا سوشل میڈیا پراردومیں بیان
اسلام آباد(بیورو رپورٹ)پاکستان نے اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے معاملے پر ایران کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے، اعلیٰ حکام نے رابطے کی تصدیق کی ہے۔پٹرولیم ڈویڑن کے اعلیٰ حکام کے مطابق پاکستانی حکام اس وقت ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ پاکستانی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل کی جا سکے۔ پٹرولیم ڈویڑن کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاملات طے پا جاتے ہیں تو پاکستان کے بحری جہاز فوری طور پر اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اجازت ملنے کی صورت میں پاکستان کے کم از کم دو تیل بردار جہاز اس راستے سے گزر جائیں گے۔ حکام نے مزید بتایا کہ بھارت نے بھی اسی معاملے پر ایران کے ساتھ بات چیت کی تھی جس کے بعد بھارت کو اجازت دی گئی اور اس نے اپنے ایل این جی کارگو جہاز اس راستے سے گزارے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا سوشل میڈیا ایپ ایکس پر اردو زبان میں شکریہ ادا کیا ہے۔۔ عمومی طور پر عباس عراقچی فارسی یا انگریزی میں ایکس پر اپنے خیالات کا ظہار کرتے ہیں۔ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کا شکریہ اردو میں ادا کرنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستان کے کردار کیکس حد تک معترف ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔اسلامی جمہوریہ ایران اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے ساتھ اپنی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس تمام تر صورتحال پر سفارت کار اور عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بیک وقت عرب ممالک اور ایران کے ساتھ متوازن بات چیت قائم کرکے بہترین سفارت کاری کا عملی مظاہرہ کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان پاکستان کی بہترین سفارت کاری کا ثبوت ہے۔