سابق صوبائی وزیر اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کے صدر ابراہیم حسن مراد سے چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیرین نے اہم ملاقات کی، جس میں اقتصادی، تعلیمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری اور تعلیمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔ چائنیز قونصل جنرل نے کہا کہ چینی جامعات اور یو ایم ٹی مل کر تعلیم و تحقیق کے مشترکہ منصوبوں پر کام کریں گی، اور انہوں نے یو ایم ٹی کے طلباء کے لیے چائنیز اسکالرشپ پروگرام کا بھی اعلان کیا۔صدر یو ایم ٹی ابراہیم حسن مراد نے کہا کہ یونیورسٹی تحقیق کے ذریعے معاشرتی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ آئی ٹی، سائنسی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر چینی زبان اور ثقافت کو تعلیمی پروگرامز میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ملاقات کے اختتام پر ابراہیم مراد نے چائنیز قونصل جنرل کو یادگاری سوینئر پیش کیا، جس کے بعد قونصل جنرل نے ڈاکٹر حسن صہیب مراد میموریل کا دورہ کیا اور مہمان کتاب میں تاثرات قلم بند کیے۔
پاک-چین تعلقات پر سیمینار، طلبہ سے خطاب
چائنیز قونصل جنرل نے یو ایم ٹی میں ڈپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیمینار میں شرکت بھی کی، جس کا موضوع پاک چین دوطرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ صورتحال تھا۔سیمینار میں چیئرپرسن ڈاکٹر عثمان عسکری، فیکلٹی اراکین اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ طلباء سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل ژاؤ شیرین نے کہا:"پاکستان اور چین حقیقی معنوں میں اچھے دوست، ہمسائے اور بھائی ہیں۔ دونوں ممالک ٹیکنالوجی، ایجوکیشن اور مصنوعی ذہانت (AI) کے منصوبوں پر مل کر کام کریں گے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ چین خطے میں امن کے لیے پرعزم ہے اور دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ساؤتھ ایشیا کی ترقی کے لیے بھارت کے سوا تمام ممالک باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں طلباء نے قونصل جنرل سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔