پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے حالیہ بیان میں اہم سیاسی موقف کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنی صوبائی خودمختاری کے عزم کو دوبارہ سے واضح کیا ہے، جس کا مقصد وسطی حکومت اور وفاقی نظام میں صوبوں کو زیادہ خودمختاری دینا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے، تاکہ آئین کے نفاذ اور اس کی تشریح میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔شازیہ مری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے آئین میں ترمیم کے حوالے سے آرٹیکل 160۔ 3 اے میں تبدیلی کی مخالفت کی ہے، کیونکہ اس ترمیم سے صوبوں کو کمزور کرنے کا خدشہ ہے۔ اس کے برعکس، انہوں نے آرٹیکل 243 سے متعلق مجوزہ تجویز کی حمایت کا یقین دلایا ہے، جو صوبوں کو زیادہ خودمختاری دینے کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہے گی تاکہ میثاقِ جمہوریت کے باقی ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ میثاقِ جمہوریت کو جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک مثبت اور اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔شازیہ مری کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی کچھ دیگر تجاویز پر بھی غور و خوض جاری رکھے گی، اور 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ اس ترمیم نے صوبوں کو زیادہ خودمختاری فراہم کرنے اور وفاقی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور پیپلز پارٹی اسے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔