پنجاب : کم از کم اجرت40ہزار مقرر

پنجاب:تنخواہوں میں 10 اضا فہ ،پنشن 5 فیصد بڑھے گی،، اپوزیشن کا شدید احتجاج ، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں
ترقیاتی بجٹ 1240،تعلیم 811 ، صحت 630 ،تعمیرات 335 ،تحفظ عامہ و پولیس299 ، زراعت کیلئے129 ارب مختص 
ٹیکس وصولیوں کا ہدف 524ارب، نان ٹیکس وصولیوں کا 303ارب مقرر ،وفاق سے 4062ارب ملیں گے
، جاری اخراجات پر 2706، تنخواہوں پر 630،پنشن پر 462 ،ہدف شدہ سبسڈیز پر 72 ارب خرچ ہونگے
جنوبی پنجاب 117 ،سکولوں میں سہولیات کیلئے 5 ،ہمت کارڈ4 ،اقلیتی کارڈ کیلئے 3.5 ارب مختص
20 ارب سے ورکرز کو راشن کارڈ دینگے، 365 دن میں 6 ہزار 104 منصوبے مکمل کئے،وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع کی بجٹ تقریر
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب حکومت نے پیر کو آئندہ مالی سال2025-26 کے لیے 5335 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ پنشن میں 5 فیصد اضافے جبکہ مزدور کی کم سے کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز بھی ایوان میں موجودر ہیں۔بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر اور وزیر خزانہ پر پھینک دیں، اپوزیشن نے سپیکر ڈائس کا گھیرائو کیا اور نعرے بازی بھی کی۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر میں کہا گزشتہ مالی سال کی طرح یہ بجٹ بھی ٹیکس فری ہے، آئندہ مالی سال 2025-26کے لیے ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 1240 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 47.2 فیصد زیادہ ہے اور اسے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ قراردیا جا رہا ہے ،غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کیلئے 171.7 ارب روپے رکھے گئے،ٹیکس ریونیو کی مد میں وصولیوں کا ہدف 524.7 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو وصولیوں کی مد میں 303.4 ارب روپے مقرر کیا گیا ۔وفاق کی جانب سے پنجاب کا حصہ 4062.2 ارب روپے ملے گا۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جاری اخراجات پر 2706.5ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ کیپٹل اخراجات پر 590.23 ارب روپے ، ہدف شدہ سبسڈیز پر 72.27 ارب روپے خرچ ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا صوبائی محصولات کا تخمینہ 828.1 ،جاری اخراجات کا تخمینہ 2706.5 ارب روپے ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب ریونیو اتھارٹی کی طرف سے وصولیوں کا ہدف 340 ارب رکھا گیا ہے، تعلیم کے شعبہ کے لیے 811.8 ارب روپے ، صحت کے لئے مجموعی طور پر 630.5 ارب روپے ،لوکل گورنمنٹ کے لئے 411.1 ارب روپے،تعمیرات کے لئے 335.5 ارب روپے ،تحفظ عامہ اور پولیس کے لئے 299.3 ارب روپے ،زراعت کے لئے 129.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔جاری خدمات کے شعبہ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا پی ایف سی کے لیے گزشتہ مالی سال 857.4 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جو بڑھا کر 934.2 ارب روپے کر دئیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا تنخواہوں کی مد میں گزشتہ مالی سال 603 ارب روپے رکھے گئے تھے رواں مالی سال 630.33 ارب روپے رکھے گئے ہیں اسی طرح پنشن کی مد میں گزشتہ مالی سال کے دوران 451.4ارب روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اسے بڑھا کر 462.2 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا صوبائی محصولات جس میں ٹیکس اور نان ٹیکس ریو نیو شامل ہے ان میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے 340 ارب روپے ،توانائی اور مواصلات ،انرجی و ٹرانسپورٹ کی مد میں 9.7 ارب ،بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 105ارب ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی مد میں 70 ارب ،نان ٹیکس کی مد میں 303.445 ارب روپے ملیں گے جس کا کل تخمینہ 828.145 ارب روپے بنتا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت پنجاب نے زراعت پر سبسڈی کے لیے 22 ارب ،ٹرانسپورٹ سبسڈی کے لیے 40 ارب ،مفت ادویات کی مد میں 79.5 ارب اور رمضان پیکیج کی مد میں 35ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا آئندہ مالی سال کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جب کہ مزدور کی کم از کم اجرت 37000 سے بڑھا کر 40000 کرنے کی تجویز شامل ہے۔وزیر خزانہ نے کہا حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے لیے 150 ارب روپے مختص کئے ہیں جبکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ گرانٹ کے تحت لوکل گورنمنٹ کے لیے 150 ارب مختص کئے گئے ہیں اور25 ارب روپے کی خطیر لاگت سے وزیر اعلیٰ ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کروایا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا ترقیاتی مد میں صحت کے شعبہ کے لئے 181 ارب روپے اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 450 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا نوازشریف انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ سینٹر کے لئے 12 ارب روپے ،نوازشریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لئے 2.6ارب روپے مختص کئے گئے۔نوازشریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کے قیام اور لینڈ ایکوزیشن کے لئے 109 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا مریم نواز ہیلتھ کلینک پروگرام کے لئے 9 ارب ، کمیونٹی ہیلتھ پروگرام کیلئے 12 اعشاریہ 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔پنجاب میں تین نئے میڈیکل کالجز کے قیام کے لیے 16ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔سیالکوٹ میں ٹیچنگ ہسپتال کے لیے 7ارب اور راولپنڈی میں چلڈرن ہسپتال کے لیے 8.5ارب روپے مختص کئے گئے۔تعلیم کے بجٹ میں 21.2 فیصد ،صحت میں 17 فیصد ،ہائوسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ کے بجٹ میں 226 فیصد،ٹرانسپورٹ کے بجٹ میں 205 فیصد،بلدیہ کے بجٹ میں 28 فیصد،زراعت کے بجٹ میں 11 فیصد،جنگلات، فشریز کے بجٹ میں 41 فیصد ، ادویات کے بجٹ میں 41 فیصد، انوائرمنٹ پروٹیکشن کے بجٹ میں 44 فیصد اضافہ کی تجویز دی ہے۔محکمہ خصوصی تعلیم کیلئے 5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیاہے۔ وزیر خزانہ نے کہا ہونہار سکالرشپس کے لئے 15 ارب مختص کئے، ساڑھے چار ارب روپے سے طلباکو وظائف دیئے جائیں گے۔ سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ سکیم کے تحت یونیورسٹی اور کالجز کے طلبا کو بالترتیب 27 ارب اور 10 ارب کی لاگت سے 112000 لیپ ٹاپ دئیے جائیں گے۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے 25ارب روپے کے خطیر فنڈز آئندہ مالی سال کے لیے مختص کئے جارہے ہیں۔ نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکینیکل اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام کے لیے 2ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ پنجاب نے کہا سکولوں میں سہولیات کے لئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سیاحتی سہولیات متعارف کرانے کیلئے 2.5 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا،رواں سال 60سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ شروع کی گئی۔ہڑپہ،ٹیکسلا،مری،فورٹ منرو کے سیاحتی مقامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ٹورازم اور آثار قدیمہ کیلئے 28 ارب روپے رکھے گئے۔وزیر خزانہ نے بتایا خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے 19.2 ارب کی لاگت سے 62 ترقیاتی سکیمیں تجویز کی گئی ہیں۔بہاولپور،مظفر گڑھ،سرگودھا میں اولڈ ایج ہومز کیلئے 34کروڑ مختص کئے گئے۔ پنجاب حکومت نے 7ارب 60کروڑ کا بجٹ کھیلوں و یوتھ افیئرز کیلئے مختص کیاہے۔مجتبیٰ شجاع نے بتایا وزیراعلیٰ پنجاب ہمت کارڈ کے لیے 4 ارب روپے، اقلیتی کارڈ کے لیے 3.5 ارب روپے مختص کیے گئے۔انہوں نے کہا محکمہ توانائی پنجاب کے لیے 7 ارب 50 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویزہے۔ 11 جاری سکیموں کے لیے 4 ارب 71 کروڑ 82 لاکھ 70 ہزار روپے مختص رواں سال 18 نئی سکیموں کے لیے 2 ارب 78 کروڑ 17 لاکھ 30 ہزار روپے مختص جاری سکیموں میں چیف منسٹر انشیٹیوز کے لیے 3 ارب 89 کروڑ 41لاکھ 47 ہزار روپے رکھنے کی تجویز پبلک سیکٹر بلڈنگز کی سولرائزیشن کے لیے 4 کروڑ 98 لاکھ 39 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویزاوکاڑہ سٹی میں ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے لیے 10 کروڑ 48 لاکھ 80 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویزنئی سکیموں میں گجر پورہ کے علاقہ میں بائیو فرٹیلائزر پلانٹ کے لیے 15 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے۔پنجاب بھر میں سڑکوں کے کنارے ونڈ ٹربائن لگانے کی فزیبلیٹی سٹڈی کے لیے 5کروڑ ،الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی فزیبلیٹی سٹڈی کے لیے 3 کروڑ ،پبلک کالجز کو سولر پر منتقل کرنے کے لیے 50 کروڑ،ٹی ایچ کیوز ہسپتالوں کو سولر پر منتقل کرنے کے لیے 24 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویزہے،پنجاب کی تمام عدالتوں کو بھی سولرائز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا محکمہ آبپاشی کے لیے مجموعی طور پر 38 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا راولپنڈی،میانوالی،ملتان میں 11کروڑ روپے کی لاگت سے 2ایئرایمبولینسز چلائی گئیں، تاریخ میں پہلی بار ساتوں موٹرویز پر ایئرایمبولینس سروس چل رہی ہے، پنجاب میں 20ہزار مریضوں کا ہارٹ سرجری کا علاج ہوا، گائنی امراض کی ادویات کی گھر گھر فراہمی کیلئے 56ارب روپے مختص کیے گئے۔وزیر خزانہ نے کہا بجٹ میں جرنلسٹ ہائوسنگ فاونڈیشن کے لیے 40 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کا مقصد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو اپنی چھت فراہم کرنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے جرنلسٹ انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔اس فنڈ کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں1 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا بجٹ میں34 نئی سکیموں کیلئے 80ارب ایک کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے، پنجاب ایئر کمپنی کیلئے ایک ارب روپے ، راولپنڈی تامری گلاس ٹرین کی فزیبلیٹی و سیڈ منی کیلئے ایک ارب ، لاہور تا راولپنڈی ہائی سپیڈریل کی فزیبلیٹی کیلئے 2 ارب بطورسیڈ منی مختص کرنے کی تجویز ہے، گجرات، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں الیکٹرک بسوں کیلئے فنڈز مختص ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا محکمہ لیبر کے بجٹ کو 4 سو ملین سے بڑھا کر 20 ارب 4 سو ملین کرنے کی تجویز ہے، اگلے مالی سال میں مریم نواز سوشل سکیورٹی راشن کارڈ سکیم شروع کرنے کی بھی تجویز ہے۔انہوں نے کہا 20 ارب سے رجسٹرڈ ورکرز کو راشن کارڈز دیئے جائیں گے، راشن کارڈ سے ورکرز کو کھانے پینے کی اشیاپر ماہانہ تین ہزار روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیرخزانہ نے کہا بھارتی جارجیت کامنہ توڑجواب دینے پر فیلڈمارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، بھارتی طیارے مارگرانے پر ایئرچیف کی قیادت کو بھی خراج تحسین پیش کرتاہوں۔ ایران پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔وزیرخزانہ نے کہا ماضی میں عوام حکومتی دروازے کھٹکھٹاتے تھے، آج پنجاب حکومت عوام کی دہلیز پر رمضان پیکیج فراہم کر رہی ہے، کسان کے ہاتھ میں کسان کارڈ، نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہے، بچوں کو جدیدمعیارکی تعلیم کے ساتھ دودھ اور کھانامل رہاہے، سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں،صنعتیں آباد ہو رہی ہیں۔مجتبیٰ شجاع نے کہا صوبے کے ہر شعبے میں ترقی کی ٹھوس بنیاد رکھ دی گئی ہے، پنجاب حکومت نے ایک سال کے 365 دنوں میں 6ہزار104منصوبے مکمل کیے، پنجاب میں پورا نظام جدید ٹیکنالوجی پر رکھ دیا گیاہے، جلد پنجاب کو دنیا کے جدید ترین صوبوں کے معیار پر لاکر کھڑا کریں گے۔وزیرخزانہ پنجاب نے کہا ایک سال میں پنجاب کے کسی منصوبے میں ایک سکینڈل سامنے نہیں آیا، پنجاب کو مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ترقی کی طرف گامزن کیا، پنجاب میں دن رات کام ہو رہا ہے، نوجوانوں کیلئے ترقی کے راستے کھول رہے ہیں، جب حکومت سنبھالی تو صوبہ مسائل کا شکار تھا۔ نوجوانوں کو یکساں آگے بڑھنے کیلئے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا فنانشنل ڈسپلن کی وجہ سے گورننس میں بہتری لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہماری حکومت کا سیاسی و یڑن ایک ایسے پنجاب کی تشکیل ہے جہاں ہر شہری کو صحت تعلیم ، روزگار اور تحفظ میسر ہو، جہاں ترقی صرف بڑے شہروں تک محدود نہ ہو بلکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں تک بھی یکساں پہنچے۔ آ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے ایک ایسے نظام حکومت کی بنیاد رکھی ہے جو معاشرے کے تمام طبقات کو براہ راست ریلیف مہیا کر رہا ہے۔ ان میں نوجوان طلبا، کسان ، صنعت کار، اقلیتیں ، خصوصی افراد، ہنر مند بچیاں اور بچے ، مزدور، مریض بھی شامل ہیں۔اپوزیشن اراکین نے بجٹ کو اشرفیہ کا بجٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر اور وزیر خزانہ پر پھینکتے رہے۔ اپوزیشن نے پوری بجٹ تقریر کے دوران بانی تحریک انصاف کی تصاویر اٹھاکر سپیکر ڈائس کا گھیرائو کئے رکھا اورحکومت مخالف نعرے بازی کرتے رہے۔بجٹ تقریر مکمل ہونے پر بجٹ اجلاس بروز جمعرات 19 جون صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔