راجستھان: بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع سوائی مادھوپور کے ایک سرکاری اسکول میں طالبات کی مبینہ برہنہ تلاشی لینے کے الزام پر خاتون ٹیچر کو معطل کر دیا گیا، جبکہ اسکول کی پرنسپل کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون ٹیچر کے ایک ہزار روپے مبینہ طور پر گم ہو گئے، جس کے بعد انہوں نے نویں اور گیارہویں جماعت کی طالبات کی تلاشی لی۔ الزام ہے کہ اس دوران طالبات کو کپڑے اتارنے پر بھی مجبور کیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر طالبات کے والدین نے شدید احتجاج کیا اور اسکول کے مرکزی دروازے کو بند کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔محکمۂ تعلیم نے شکایات موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں ہندی کی سینئر ٹیچر سرسوتی مینا کو معطل کر دیا گیا، جبکہ اسکول کی پرنسپل کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کے لیے باضابطہ خط جاری کیا گیا ہے۔
دوسری جانب معطل خاتون ٹیچر نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ایک ہزار روپے گم ہوئے تھے، جس پر انہوں نے صرف طالبات سے پوچھ گچھ کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبات کو کپڑے اتارنے پر مجبور کرنے کا الزام بے بنیاد ہے اور انہوں نے ایک خاتون استاد ہونے کے ناطے صرف مناسب حدود میں رہتے ہوئے معاملے کی جانچ کی۔محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ کی روشنی میں آئندہ قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔