کاروبار میں آسانی کی اصلاحات پر عملدرآمد تیز کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت

کاروبار میں آسانی کی اصلاحات پر عملدرآمد تیز کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کاروبار میں آسانی (Ease of Doing Business) سے متعلق اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومتی اصلاحات، آسان کاروبار ایکٹ 2025 پر عملدرآمد اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کے لیے متعارف کرائے گئے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 پر عملدرآمد مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کی شفافیت اور مؤثر نفاذ کو جانچنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کرائی جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو کاروباری اصلاحات پر عملدرآمد کی جامع رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔وزیراعظم نے وزارتِ قانون و انصاف، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC)، سرمایہ کاری بورڈ، وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت اور دیگر متعلقہ اداروں کی قانون سازی اور پالیسی سازی میں کی گئی کوششوں کو سراہا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں ضوابط، کاغذی کارروائی اور منظوریوں میں کمی سے متعلق 558 اصلاحات مکمل کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 71 پالیسی اقدامات پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ مزید 272 اقدامات پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان اصلاحات کو سات مختلف مراحل میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ان اقدامات سے کاروباری برادری کو ضوابط کی تکمیل پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 468 ارب 70 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے، جبکہ غیر ضروری اور پیچیدہ ضوابط کے خاتمے سے برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت کاروبار میں آسانی کے اقدامات پر عملدرآمد اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو بھی اہم معیار بنایا جائے۔اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیرِ وزیراعظم محمد علی، معاونِ خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز سمیت بین الاقوامی ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔