ٹرمپ اور نیتن یاہو ملاقات کی خبریں غلط قرار، وائٹ ہاؤس حکام کا اہم انکشاف

ٹرمپ اور نیتن یاہو ملاقات کی خبریں غلط قرار، وائٹ ہاؤس حکام کا اہم انکشاف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان ملاقات سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو امریکی میڈیا نے بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق وائٹ ہاؤس حکام حالیہ دنوں اُس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے اسرائیلی میڈیا میں یہ رپورٹس دیکھیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی میزبانی کرنے والے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایسی کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی تھی۔ ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نیتن یاہو ایک ایسی ملاقات کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کر رہے تھے جس کا کوئی باقاعدہ شیڈول موجود نہیں تھا۔ایکسیوس کے مطابق ایک اور امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے ترکیہ کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ امریکی فروخت پر عوامی تنقید کیے جانے سے ناراض تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف 35 طیاروں کے معاملے پر اختلاف دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے، جبکہ واشنگٹن میں اسرائیلی قیادت کے حوالے سے بھی کچھ حلقوں میں بے چینی بڑھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ نیتن یاہو نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم جانتے ہیں کہ فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے، تاہم بعد میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سے متعلق رپورٹس پر سوالات اٹھنے لگے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے قریبی تعلقات قائم ہیں، تاہم حالیہ دفاعی معاملات اور علاقائی پالیسیوں پر اختلافات کے باعث دونوں حکومتوں کے درمیان بعض معاملات میں فاصلے نظر آ رہے ہیں۔