وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
یہ ملاقات ممکنہ طور پر روس-یوکرین تنازع کے خاتمے کی سفارتی کوششوں کا حصہ بن سکتی ہے۔
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا بیان
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا:"ٹرمپ اور پیوٹن کی ممکنہ ملاقات سے متعلق آج کا دن مثبت رہا، لیکن ابھی ہمیں بہت سا کام کرنا باقی ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ:"ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات میں حائل بہت سی رکاوٹیں ہیں، جنہیں دور کرنا ضروری ہے تاکہ دونوں رہنما کسی بامقصد بات چیت کی طرف بڑھ سکیں۔"
ملاقات کے مقاصد اور پس منظر
امریکی حکام کے مطابق:اس ملاقات کا مرکزی مقصد یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی سیاسی راہ تلاش کرنا ہے۔سفارتی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ فریقین کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب یوکرین میں جنگ کا تسلسل عالمی امن اور معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس ممکنہ ملاقات کا احتیاط سے خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ملاقات کامیاب ہوتی ہے تو یہ عالمی سفارتکاری کی بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ:"جب تک روس، یوکرین پر فوجی دباؤ کم نہیں کرتا، مذاکرات کی کامیابی مشکل دکھائی دیتی ہے۔"
آگے کا لائحہ عمل
ملاقات کی تاریخ، مقام اور ایجنڈے پر تاحال مشاورت جاری ہے۔امریکی و روسی سفارتکاروں کے درمیان بیک ڈور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔زیلنسکی حکومت کا ردعمل فی الحال محتاط ہے، لیکن ذرائع کے مطابق وہ مذاکرات کے اصولی حق میں ہے۔