بحیرۂ اسود میں ڈرون حملوں سے روس کے مزید 12 بحری جہاز نشانہ بن گئے

بحیرۂ اسود میں ڈرون حملوں سے روس کے مزید 12 بحری جہاز نشانہ بن گئے

کیف: یوکرین کی ڈرون فورسز کے کمانڈر رابرٹ بروودی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی ڈرونز نے بحیرۂ اسود میں روس کے مزید 12 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

رابرٹ بروودی کے مطابق ان حملوں میں روسی بحری جہازوں کی مختلف اقسام کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 9 مال بردار جہاز، ایک آئل ٹینکر، ایک گیس ٹینکر اور ایک ٹگ بوٹ شامل ہیں۔یوکرینی کمانڈر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں روسی بحری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور بحیرۂ اسود کے خطے میں روسی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کی گئیں۔رابرٹ بروودی کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد رواں ماہ بحیرۂ اسود اور بحیرۂ آزوف میں یوکرینی کارروائیوں کا نشانہ بننے والے روسی جہازوں کی مجموعی تعداد 159 تک پہنچ گئی ہے۔تاہم روسی حکام کی جانب سے یوکرینی دعوؤں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان حملوں سے ہونے والے نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں بحیرۂ اسود ایک اہم محاذ بن چکا ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کی بحری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔یوکرین جدید ڈرون ٹیکنالوجی کو روسی بحری تنصیبات اور رسد کے نظام کے خلاف استعمال کر رہا ہے، جبکہ روس بھی مختلف مواقع پر یوکرینی فوجی اہداف پر جوابی کارروائیوں کا اعلان کرتا رہا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق بحیرۂ اسود میں بحری اثاثوں پر حملے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دونوں ممالک کی فوجی حکمت عملی پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔