اتراکھنڈ میں سڑک منصوبے کے لیے 3 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی

اتراکھنڈ میں سڑک منصوبے کے لیے 3 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی

بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں 4 اور 6 لین سڑک منصوبے کے لیے 3 ہزار سے زائد درخت کاٹے جانے پر ماحولیاتی کارکنوں اور مقامی افراد نے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہریالی اور درختوں کے سالانہ تہوار ’ہریلا‘ کے موقع پر ماحولیاتی کارکنوں نے اس اقدام کے خلاف ’بلیک ہریلا‘ منایا اور بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی پر تشویش کا اظہار کیا۔رپورٹس کے مطابق یہ درخت بھنیاوالا، جولی گرانٹ اور رشی کیش کے درمیان مجوزہ 4 اور 6 لین سڑک منصوبے کے لیے کاٹے گئے ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ علاقہ ماحولیاتی اعتبار سے انتہائی حساس ہے، جہاں درختوں کی بڑی تعداد میں کٹائی سے سبزہ، جنگلی حیات اور مقامی ماحول کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔علاقہ مکینوں اور ماحولیاتی کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ منصوبے کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا مکمل جائزہ نہیں لیا گیا اور حکومت کو ماحول کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔دوسری جانب نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 کلومیٹر طویل اور 743 کروڑ روپے مالیت کا یہ منصوبہ ماہرین کی سفارشات اور ماحولیاتی ضوابط کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق جنگلاتی علاقوں میں سڑک کی چوڑائی محدود رکھی گئی ہے تاکہ درختوں کی کٹائی کو کم سے کم کیا جا سکے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ 754 درختوں کو مون سون کے دوران دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔حکام نے مزید بتایا کہ جنگلی جانوروں خصوصاً ہاتھیوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے خصوصی انڈر پاسز اور تقریباً 3.5 کلومیٹر طویل بلند راستہ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق بڑے ترقیاتی منصوبوں کے دوران بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج ہے۔