قیمتیں بڑھنے پر ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے‘ قیمتیں بڑھنے پر ٹینکروں کو موٹروے کی حدود سے باہر جا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے:نبیل اعوان کی کمیٹی کو بریفنگ
حکومت ایران سے تیل کیوں نہیں خرید رہی :سینیٹر سلیم مانڈی والا ‘ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگ گئی ہیں: سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن‘5 جی آکشن میں کامیاب کمپنی نے اپنے ٹاورز بیچ دیئے: پی ٹی اے
اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے جعلی کلیمز کی تحقیقات جاری ہیں۔ٹیلی کام کمپنیوں کو رائٹ آف وے کے حوالے سے متنازعہ بل سے پی ٹی اے کو لاعلم رکھا گیا ہے۔ جمعرات کو سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے جعلی کلیمز، ذخیرہ اندوزی اور ایران سے تیل خریداری سمیت متعدد اہم مسائل پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں چیئرمین اوگرا بیرسٹر نبیل اعوان نے بتایا کہ او ایم سیز کی جانب سے نشاندہی کی گئی مشکلات حل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا قیمتیں بڑھنے پر ذخیرہ اندوزی لازمی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ او ایم سیز نے 35 دنوں کا اسٹاک خرید کر بھی غائب کر رکھا ہے۔چیئرمین اوگرا نے بتایا کہ قیمتیں بڑھنے پر ٹینکرز کو موٹروے کی حدود سے باہر جا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے۔اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈی والا نے سوال اٹھایا حکومت ایران سے تیل کیوں نہیں خرید رہی ہے جس پر سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگ گئی ہیں۔ سینیٹر مانڈوی والا نے کہا کہ اس معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں اٹھایا جائے گا۔دوسری جانب سینیٹر عبدالقادر نے سول سروسز میں بلوچستان کے کوٹہ میں اضافے والے بل کی مخالفت کی۔اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں فائیو جی سروسز عام شہریوں تک پہنچانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا کہ 5 جی آکشن میں کامیاب ہونے والی کمپنی نے اپنے ٹاورز دوسری کمپنیوں کو بیچ دیے ہیں۔