لندن: برطانوی ٹینس کھلاڑی ٹارا مور کو ممنوعہ ادویات کے استعمال پر کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (CAS) نے چار برس کے لیے ٹینس مقابلوں سے معطل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، انٹرنیشنل ٹینس انٹیگریٹی ایجنسی (ITIA) کی اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے CAS نے فیصلہ سنایا، جس کے تحت ٹارا مور پر 15 جولائی 2024 سے 14 جولائی 2028 تک ٹینس کھیلنے پر پابندی عائد رہے گی۔قبل ازیں، ایک غیر جانبدار ٹربیونل نے مور کو ممنوعہ اشیاء کے استعمال کے الزام سے بری کر دیا تھا۔ ٹارا مور کا مؤقف تھا کہ ان کے خون میں ممنوعہ اجزا آلودہ گوشت کھانے کی وجہ سے پائے گئے۔ تاہم، عالمی ثالثی عدالت کے تین رکنی بینچ نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا اور فیصلہ تبدیل کر دیا۔مور کو جون 2022 میں عبوری طور پر معطل کیا گیا تھا جب ان کے جسم میں نانابولک اسٹیرائیڈز پائے گئے تھے۔ ITIA نے ابتدائی فیصلے کے خلاف CAS میں اپیل دائر کی، جس پر اب فیصلہ سنایا گیا ہے۔ٹارا مور ماضی میں برطانیہ کی نمبر ون ڈبلز کھلاڑی رہ چکی ہیں اور متعدد بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ ان کی معطلی سے برطانوی ٹینس میں ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق، مور اب 2028 تک کسی بھی قسم کی پیشہ ورانہ ٹینس سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔